بنایا ہے حسیں پیکر خدا نے مشک و عنبر سے

رکھا اس میں ہے نور ایسا چمک زیادہ ہے اختر سے ضیا باراں ہوئی دنیا اسی کی ذاتِ انور سے جسے دے کر کیا ارفع و اعلیٰ حوضِ کوثر سے بنا ذریعہ وجودِ عالمیں کا جو وہی احمد سلام و رحمتیں تجھ پر نبی آخر نبی احمد صفا پہ جاکے بے باکی سے جس نے […]

سخنوروں میں عطا کر یہ امتیاز مجھے

مرے کریم "​نئی نعت”​ سے نواز مجھے لبوں پہ ورد ہے صلِ علیٰ محمد کا کرم سے دیکھ رہی ہے نگاہِ ناز مجھے تری طلب میں کُھلا مجھ پہ اندروں میرا ترے کرم نے کیا آشنائے راز مجھے در آئے رنگِ حضوری حروفِ مدحت میں بس ایک بار بلا لو اگر حجاز مجھے بروزِ حشر […]

یہ ہے شہر طیبہ ، یہ طیبہ کی گلیاں

بڑی خوبصورت ہیں رشکِ گلستاں بتا تجھ سے کیا کم ہیں قسمت میں رضواں مرے کملی والے کی چوکھٹ کے درباں یہ شانِ ریاضِ رسول، اللہ اللہ ہے جنت بھی سو جان سے جس پہ قرباں یہی تو وہ ارضِ مقدس ہے لوگو جہاں کا ہے ہر ذرہ لعلِ درخشاں میسر ہے اس کو متاعِ […]

نبی اکرم شفیع اعظم دکھے دلوں کا پیام لے لو

تمام دنیا کے ہم ستائے کھڑے ہوئے ہیں سلام لے لو شکستہ کشتی ہے تیز دھارا نظر سے روپوش ہے کنارا نہیں کوئی ناخدا ہمارا خبر تو عالی مقام لے لو قدم قدم پہ ہے خوف رہزن زمیں بھی دشمن فلک بھی دشمن زمانہ ہم سے ہوا ہے بدظن تمہیں محبت سے کام لے لو […]

طیبہ میں جاکے گلشن و گلزار دیکھئے

طیبہ میں جا کے گلشن و گلزار دیکھئے ماتھے کی آنکھ سے در و دیوار دیکھئے کاسہ لئے کھڑے ہیں جہاں باادب سبھی کتنا حسیں وہ اعلٰی ہے دربار دیکھئے ہوگا انہیں کا داخلہ جنت میں روز حشر کرتے ہیں مصطفی سے جو بھی پیار دیکھئے دیوارِ ظلم و کفر کو ڈھانے کے واسطے آئے […]

والقمر والضحی پڑھا کیجیئے

پڑھ نہیں سکتے تو سنا کیجیئے ان کی الفت میں ہی رہا کیجیئے مدحت شاہ انبیاء کیجیئے جس جگہ تذکرہ ہو آقا کا باادب بیٹھ کر سنا کیجیئے جو گرفتارِ عشقِ احمد ہے وہ یہ کہتا نہیں” رہا کیجیئے لکھ سکوں نعت آپکی جس سے وہ قلم یا نبی عطا کیجیئے وہ سنا کرتے ہیں […]

محبوب کردگار کی رفعت تو دیکھئے

اک پل میں پہونچے عرش پر سرعت تو دیکھئے جن و ملائک انس بھی ہوتے ہیں فیضیاب خلق خدا پر ان کی عنایت تو دیکھئے ستر صحابہ دودھ سے سیراب ہوگئے دست رسول پاک کی برکت تو دیکھئے ہم سے گنہگار بھی جائیں گے خلد میں *محشر میں ان کی شان شفاعت تو دیکھئے* سجدے […]

جس کے دل میں ہے شہ دیں کی محبت آباد

مستقل اس میں رہی رب کی عنایت آباد جس کے روحانی عزائم ہوں بلند و بالا کیوں نہ ہو اس میں لطافت ہی لطافت آباد ہو میسر ہمیں سرمایۂ تسلیم و رضا ہم میں ہو جائے اگر ذوق عبادت آباد بابِ اصلاح اس انساں کے لیے ہے مسدود جس کی سوچوں میں ازل سے ہے […]

اُس قامتِ زیبا پہ جو مائل نہیں ہوتا

کچھ اور ہی ہوتا ہے وہ دل ، دل نہیں ہوتا توفیقِ ثنا اُن کا کرم ، اُن کی عطا ہے ہر اہلِ سُخن نعت کے قابل نہیں ہوتا اے رُوحِ سفر ! اہلِ سفینہ پہ نظر ہو ساحل جو نظر آتا ہے ، ساحل نہیں ہوتا اک نام نگہبان ہو ، اک ورد محاٖفظ […]

حُبِ احمد کا صلہ بولتا ہے

اب یہ محرومِ نوا بولتا ہے قبر میں پوچھ یہی ہے کہ کوئی آپ کے بارے میں کیا بولتا ہے سب صحابہؓ ہمہ تن گوش ہوئے سرور ہر دوسرا بولتا ہے اس فصاحت پہ فصاحت قربان وہ زمانے سے جُدا بولتا ہے میرے محبوب قدم رکھتے ہیں راستہ صلِّ علیٰ بولتا ہے اُذنُ مِنّی کی […]