روشنی لفظ کی تا حدِ نہاں کھُلتی ہے
اُن کی مدحت جو پسِ حرف و بیاں کھُلتی ہے ایک حیرت ہے جو ’’ اَوادنیٰ ‘‘ سے آگے ہے عیاں اِک حقیقت ہے جو مابعدِ گماں کھُلتی ہے ناز فرمائیں، چلے آئیں وہ جانِ عالم خواہشِ دید کراں تا بہ کراں کھُلتی ہے سوچتا ہُوں اُسے اظہار میں لاؤں کیسے ایک صورت جو نہاں […]