جسے مدّاحِ شاہِ دوسَرا لکھا گیا ہے
اُسے اہلِ سخن کا پیشوا لکھا گیا ہے اُسے تاجِ شہی سے بڑھ کے ہے نقشِ عنایت جسے شہرِ مدینہ کا گدا لکھا گیا ہے ابھی اِک نعت چمکے گی بہ فیضِ حرفِ اقرا مرے دل پر ابھی غارِ حرا لکھا گیا ہے بِچھے تھے آسماں پر نُور کے امکان سارے مگر نقشِ کفِ پا […]