کمالِ عجز سے ہے، عجزِ باکمال سے ہے
یہ نعت ہے، یہ عقیدت کے خدو خال سے ہے مجھے بھی ناجی سفینہ میں رکھ مرے مولا مری بھی نسبتِ نوکر انہی کی آل سے ہے سخی پہ ہے وہ جسے، جیسے، جب، عطا کر دے عطا کا واسطہ عرضی سے ہے نہ حال سے ہے بہار کو ترے کوچے سے ہے وہی نسبت […]