چمنِ فکر میں مہکا ُگلِ خنداں چہرہ

راحتِ قلبِ تپاں ، شوقِ نگاراں چہرہ مہ و پروین کی تعبیر یہ نقشِ پا ہیں نور کے سارے حوالوں سے ہے تاباں چہرہ یاد کا کرب تو رگ رگ میں اُتر آیا ہے اور اس دردِ مسلسل کا ہے درماں ، چہرہ سامنے آنکھوں کے ٹھہرے تو کوئی بات بنے مر ہی جاؤں جو […]

نور کے حرف چنوں، رنگ کا پیکر باندھوں

نعت لکھنی ہو تو مہر و مہ و اختر باندھوں شاید اِس طرح کوئی نغمۂ دلکش اُبھرے آنکھ کے موتی کو جبریل کے پَر، پر باندھوں ایک منظر سے تو بنتا نہیں اُس کا منظر نور کے سارے حوالوں کو مکرّر باندھوں لب کا پیرایہ تو بے حد ہے ثقیل و جامد مَیں ترا اسم […]

اللہ، غنی کیسی وہ پر کیف گھڑی تھی

جب سامنے نظروں کے مدینے کی گلی تھی نظروں سے لیے بوسے کبھی ہونٹوں سے چوما اس شہر کی ہر چیز مجھے خوب لگی تھی لج پالوں کے لج پال کی چوکھٹ پہ کھڑا تھا قسمت میری اس در پہ کھڑی جھوم رہی تھی اس نعت مقدس پہ ہر اک نغمہ تصدق حسان نے جو […]

لفظ، خاموش ہے اور دیدۂ حیرت چپ ہے

مرے محبوب مرا صیغۂ مدحت چپ ہے سوچتا ہوں مَیں مدینے کا سفر کیسے کروں دل دھڑکتا ہے مگر جانے کی ہمت ُچپ ہے ایک تبریک کی صورت میں کہی، جب بھی کہی ورنہ یہ نعت ہے اور ساری بلاغت ُچپ ہے روبرو آپ کے پھر کون رکھے حرفِ نیاز جذب و اظہار تو دیوار […]

لب بستہ قضا آئی تھی، دَم بستہ کھڑی ہے

کونین کے والی ترے آنے کی گھڑی ہے اک طرفہ نظارہ ہے ترے شہر میں آقا بخشش ہے کہ چپ چاپ ترے در پہ پڑی ہے ہاتھوں میں لئے پھرتا ہوں لغزش کی لکیریں تقدیر مگر تیری شفاعت سے جڑی ہے چہرہ ہے کہ ہے نور کے پردوں میں نہاں نور زُلفیں ہیں کہ رنگوں […]

رات کے ساتھ ہی جَل اُٹھتے ہیں طلعت کے چراغ

حرف بنتے ہی چلے جاتے ہیں مدحت کے چراغ نعت کا باب کھلا قلب و نظر پر ایسے جیسے ادراک میں رکھ دے کوئی حیرت کے چراغ یا نبی سر بہ گریباں ہے تری ’’خیرِ اُمَم‘​‘​ یا نبی بھیج کوئی پھر سے خلافت کے چراغ روشنی بجھنے کہاں دے گا عقیدت کا سفر قبر میں […]

یہ میمِ نور سے دالِ کمال باندھنا ہے

جہانِ شعر میں کیا بے مثال باندھنا ہے خدا سے مانگی ہیں قوسِ قزح کی سب سطریں کہ مَیں نے نعتِ نبی کا خیال باندھنا ہے جواب آپ نے دستِ گدا پہ رکھ چھوڑے مَیں سوچتا رہا کیسا سوال باندھنا ہے حروف، نعت کے منظر میں کیسے ڈھل پائیں حروف نے تو ابھی عرضِ حال […]

کوئی بھی حرف سپردِ قلم نہیں کیا ہے

کہ تیرے نام کو جب تک رقم نہیں کیا ہے ہمیں بھی حکم تھا لغزش کے بعد توبہ کا کریم نے بھی سپردِ ستم نہیں کیا ہے خرد کو خواہشِ تابِ نظر رہی، لیکن جنوں نے دید کے منظر کو خم نہیں کیا ہے کِواڑ اُس نے بھی سارے عطا کے وا رکھے سوال ہم […]

بس ایک حاصلِ خواب و خیال، سامنے تھا

مدینہ، شہرِ جمال و کمال، سامنے تھا کوئی بھی لفظ سپردِ سخن نہ ہو پایا وجود پورا مجسم سوال سامنے تھا نگاہِ شوق ہی تابِ نظر کی جویا رہی وہ ُحسنِ تام بہ حد کمال سامنے تھا نظر پڑی جو کھجوروں کی اوٹ کے مابعد تو شہرِ جود و عطا و نوال سامنے تھا وہ […]

شکستہ دل کو یہ کتنا بڑا دلاسہ ہے

حضور آپ کی مدحت ہی استغاثہ ہے خبر ہے قاتلِ جاں کو، حریفِ حرمت کو ہمارا مرشِد و ہادی ترا نواسہؑ ہے مَیں اوڑھ لیتا ہوں پورے بدن کو خیر کے ساتھ کہ تیرا نام تمازت میں اک ردا سا ہے یہ کشتِ جاں تری رحمت شعار دید طلب یہ دشتِ دل ترے ابرِ کرم […]