تاروں سے یہ کہہ دو کوچ کریں خورشید منور آتے ہیں

قوموں کے پیمبر آ تو چکے اب سب کے پیمبر آتے ہیں رستے میں جو پودے ملتے ہیں تعظیم کو جھک جھک پڑتے ہیں کھل کھل کے گواہی دیتے ہیں مٹھی میں جو کنکر آتے ہیں دربارِ نبی جب گرم ہوا ‘ افلاکِ بریں سے آئی صدا یہ قیصر و کسریٰ حاضر ہیں یہ طغرل […]

غم نے کیا ہے یہ حال آقا ​

غم نے کیا ہے یہ حال آقا دل ہو گئا پائمال آقا ہر عادتِ بد مری چُھڑا دیں کر دیں مجھے خوش خصال آقا واللہ میں ہوں غلام جس کا وہ میرا ہے بے مثال آقا ہیں شمس و قمر بھی آپ کے محکوم آپ کے ہیں ماہ و سال آقا قبضہ میں خدا نے […]

کون ایسا ہے جسے خیر وریٰ نے نہ دیا

کوئی ایسا بھی ہے کیا جس کو خدا نے نہ دیا جس کو تم نے دیا اللہ نے اُس کو بخشا جس کو تم نے نہ دیا اُس کو خدا نے نہ دیا آپ کے رب نے دیا آپ کو فضلِ کلّی وہ دیا تم کو جو اوروں کو خدا نے نہ دیا وہ فضائل […]

مدینے کی طرف جب میرا مستانہ سفر ہوگا

مری دنیا نئی ہو گی مرا عالم نیا ہوگا فغاں مقبول ہوگی نالہ ممنونِ اثر ہوگا مسافر موردِ الطاف ِشاہِ بحر و بر ہوگا تعالی اللہ صحرائے مدینہ میں سفر ہوگا جنون آزادِ قیدو بندشِ دیوار و در ہوگا جنوں ہی جادۂ منزل جنوں ہی رہبر ہوگا جنوں ہی نغمہ خواں ،افسانہ خواں ۔، شام […]

کیونکر نہ میرے دل میں ہو الفت رسول کی

جنت میں لے کے جائے گی چاہت رسول کی چلتا ہوں میں بھی قافلے والو رکو ذرا ملنے دو بس مجھے بھی اجازت رسول کی سرکار نے بلا کے مدینہ دکھا دیا ہوگی مجھے نصیب شفاعت رسول کی یارب دکھا دے آج کی شب جلوہء حبیب اک بار تو عطا ہو زیارت رسول کی جس […]

عرش تک آج بھی وہ راہ گزر روشن ہے

اب بھی تاروں کی طرح گردِ سفر روشن ہے آبِ اَخلاقِ منور سے ہوا ہے سیراب باغِ توحید کا اک ایک شجر روشن ہے صرف انگشتِ مبارک کا کرم ہے اُس پر ٹکڑے ہو کر بھی سراپائے قمر روشن ہے شمعِ اِحساسِ ندامت کے سوا کچھ بھی نہیں میرے آقا! جو سر دیدۂ تر روشن […]

خدا گواہ جو حق کے امام ہوتے ہیں

وہ مستحقِ درود و سلام ہوتے ہیں بہ شوق ناز اُٹھاتا ہے صاحبِ معراج خدا کے دین کے ایسے امام ہوتے ہیں جو بن کے آتے ہیں زہرا کی آنکھ کے تارے وہی زمانے میں ماہِ تمام ہوتے ہیں جو کوئی کام نہیں کرتے نام کی خاطر دلوں پہ ثبت فقط ان کے نام ہوتے […]

شیرازہ بندِ دفترِ امکاں ہے شانِ حق

سرچشمۂ حیات ہے فیضِ روانِ حق بارانِ لطف ہے کرمِ جاودانِ حق ذرے زبانِ حال سے ہیں تر زبانِ حق رنگِ نوائے راز ہے ہستی کے ساز میں در پردہ بس رہی ہے حقیقت مجاز میں تابش فزائے ماہِ نظر تاب ہے وہی ضو بخشِ برقِ غیرتِ سیماب ہے وہی نزہت دِہِ رخِ گلِ شاداب […]

گُلہائے عشق اور گُلِ سوسنِ خلوص

آئے نبی تو مہکا ہر اک گلشنِ خلوص کرنے لگا ہوں جب سے محمد کی پیروی محفوظ ہے شرر سے مرا خرمنِ خلوص لہرائے کیوں نہ بادِ صبا میرے ارد گرد مہکا ہوا ہے بوئے نبی سے تنِ خلوص دستِ خلوص اپنا نبی کی طرف بڑھا بنتا ہے روشنی کا سبب روزنِ خلوص ظلم و […]

خدا نے خود لکھی قرآن میں مدحت محمد کی

فلاحِ دین و دنیا ہے پڑھو سیرت محمد کی ملے گا حشر کی گر می میں اُس کو سایہء رحمت لئے پھرتا ہے اپنے ساتھ جو الفت محمد کی جہاں تک آپ پہنچے ہیں ملائک بھی نہیں پہنچے تعین کی حدوں سے دور ہے عظمت محمد کی الہٰی مجھ کو دکھلا دے بہار گلشن طیبہ […]