کچھ ایسی لطف و کرم کی ہوا چلی تازہ
کہ میرے دل میں کھلی نعت کی کلی تازہ حرم کی تیرہ شبی جس سے مستنیر ہوئی حرا کی کوکھ سے پھوٹی ہے روشنی تازہ بہار قلب و نظر کا ہوا سماں پیدا نہال دل میں کھلیں کونپلیں کئی تازہ صدا کو زمزمہ نو حروف کو معنی ملی مغنی جاں کو بھی نغمگی تازہ ترے […]