کچھ ایسی لطف و کرم کی ہوا چلی تازہ

کہ میرے دل میں کھلی نعت کی کلی تازہ حرم کی تیرہ شبی جس سے مستنیر ہوئی حرا کی کوکھ سے پھوٹی ہے روشنی تازہ بہار قلب و نظر کا ہوا سماں پیدا نہال دل میں کھلیں کونپلیں کئی تازہ صدا کو زمزمہ نو حروف کو معنی ملی مغنی جاں کو بھی نغمگی تازہ ترے […]

ورفعنا لک ذکرک کی صداقت ہے عیاں

وادی بطحا سے دیں چین و عجم تک پہنچا کوئی خطہ نہیں دنیا میں جہاں پر ان کا نامِ نامی نہ ہو قرطاس و قلم تک پہنچا آج ہر ایک غلام ان کا یہ کرتا ہے دعا میرے مولی تو مجھے ان کے قدم تک پہنچا

حق تعالی نے ترے شہر کی کھائی سوگند

جب تری بات چلی قصہ قسم تک پہنچا مجھ سے پوچھے کوئی صحرائے مدینہ کی بہار اس کے رتبے کو نہ گلزار اِرم تک پہنچا ہوگا سرکار کا دیدار لحد میں اس کو حسرتِ دید میں جو ملک عدم تک پہنچا فکر دنیا غم عقبی نہیں اب اے اصغر للہ الحمد میں آقا کے قدم […]

علاج کلفتِ ہر دل فگار تو نے کیا

گرے ہووں سے ، یتیموں سے پیار تو نے کیا عطا کی تو نے فقیروں کو بھی جہانگیری جو رہ نشیں تھے انہیں تاجدار تو نے کیا سنائی دشمنِ جاں کو نوید "​لا تثریب”​ جو کر سکا نہ کوئی بار بار تو نے کیا عطا کی دیدہء بے نور دل کو بینائی حریم تیرہ ء […]

عقیدتوں کے مدینے کا تاجدار درود

عبادتوں کے قرینے کا اعتبار درود "​زہے نصیب کہ بزم فروغ نعت میں ہوں”​ برنگِ شعر زباں پر ہے کیف بار درود سجی ہے آج درود و سلام کی محفل ہزار بار سلام اور صد ہزار درود سلام چہرۂ انور پہ نور بار سلام درود گیسوئےمشکیں پہ مشک بار درود سلام گوشۂ ابرو پہ دلنشین […]

سرورِ سروراں فخرِ کون و مکاں ، تجھ سا کوئی کہاں تجھ سا کوئی کہاں​

تیری چوکھٹ ہے بوسہ گہِ قدسیاں ، تجھ سا کوئی کہاں تجھ سا کوئی کہاں​ جو زمانے میں پامال و بدحال تھے ، ان کو بخشے ہیں تو نے نئے ولولے​ تجھ سے روشن ہوا بختِ تیرہ شباں ، تجھ سا کوئی کہاں تجھ سا کوئی کہاں​ حدِ روح الامینی سے بھی ماوراء ، تیری […]

چاند تک پہنچا کوئی بابِ حرم تک پہنچا

"​میری معراج کہ میں تیرے قدم تک پہنچا”​ رائیگاں اس کی عبادت بھی ریاضت بھی ہوئی تیری گلیوں سے جو ہٹ ہٹ کے حرم تک پہنچا اپنی تقدیر پہ وہ لفظ ہے نازاں کتنا نعتِ آقا کے لیے جو بھی قلم تک پہنچا آپ کی عمر کا گزرا ہے جو اک اک لمحہ ڈھل کے […]

خاکِ نعلین ہوئی سرمہ میری آنکھوں کا

"​میری معراج کہ میں تیرے قدم تک پہنچا”​ میں نے فردوس کے در اپنے پہ کھلتے دیکھے مدحتِ آقا میں جب ہاتھ قلم تک پہنچا کہکشاں چاند ستارے ہیں تیری راہ کی دھول روند کر اوجِ ثریا تو ارم تک پہنچا بات گو میرے گناہوں سے چلی تھی ساجد ذکر پر خواجہء طیبہ کے کرم […]

سینکڑوں موڑ نئے راہِ تمنا میں ملے

جب تیری زلفِ گرہ دار کے خم تک پہنچا دو تھے وہ نور ، جھکے اتنے کہ قوسین بنے سلسلہ قرب کا یوں وصل بہم تک پہنچا سب کی معراج نمازوں میں ہے پنہاں شاکر "​​میری معراج کہ میں تیرے قدم تک پہنچا”​​

پہنچ گیا جو تمہارے در پر، کہوں گا تم سے سلام سائیں

جو رہ گیا تو یہیں سے بھیجیں گے میرے آنسو، پیام سائیں تمہارے ہاتھوں میں دیدیا ہے خدا نے سارا نظام سائیں کوئی تو کردو میرے بھی آنے کا در پہ اب اہتمام سائیں عجیب لذّت ہے جب پکاروں میں اپنے آقا کا نام سائیں جو سُن کے وہ خوش ہوئے، بنادیں گے میرے سب […]