"زہے نصیب ، میں سرکار کے دیار میں ہوں”

"​زہے نصیب ، میں سرکار کے دیار میں ہوں”​ خوشا کہ گنبد خضرا ہی کے جوار میں ہوں خدا کا شکر ہے ، میں اِن دنوں کہاں آیا کبھی قُبا میں ، کبھی اُن کی رہگزار میں ہوں بلایا مسجدِ آقا میں میرے خالق نے نظر ہے روضے پہ ، میں صحنِ سایہ دار میں […]

میرے بنے کی بات نہ پوچھو ، میرا بنا ہریالہ ہے

خُسرَوِ خوباں، سرورِ عالم، تاجِ شفاعت والا ہے مَن موہن بوہتیرے ہی دیکھے، ایسا تو دیکھا نہ بھالا ہے دونوں جَگَت کو لُوٹ کے بیٹھا، پھر بھی بھولا بھالا ہے اُس پہ نظر جب جم جاتی ہے، پھر نہیں جچتا کوئی نظر میں جس نے نظر پائی ہے اونچی، جپتا اُسی کی مالا ہے حُسن […]

میری پہچان ہے سیرت اُن کی

میرا ایمان ! محبت اُن کی آج ہم فلسفہ کہتے ہیں جسے وہ مساوات تھی عادت اُن کی فتحِ مکہ ، مرے دعوے کی دلیل عدل کی جان ، عدالت اُن کی حرفِ اَتمَمْتُ عَلَیْکُم ہے گواہ حُسنِ تکمیل ہے بعثت اُن کی میں کہ راضی بہ رضائے رب ہوں کوئی حسرت ہے تو حسرت […]

پھر دیارِ پاک کا اے کاش منظر دیکھتے

پھر رسولُ اللہ کا دربارِ انور دیکھتے بڑھ کے ہو جاتی نگاہِ شوق مصروفِ طواف دور سے جب گنبدِ خضرا کا منظر دیکھتے شوق میں کوہِ اُحد پر پھر پہنچتے ایک بار اور خود اپنا بلندی پر مقدر دیکھتے آ کے فرطِ شوق میں بابِ مجیدی کے قریب پھر سحر کا وہ نظر افروز منظر […]

گزرا وہ جدھر سے وہ ہوئی راہ گزر نُور

اُس نُورِ مجسم کی ہے ہر شام و سحر نُور لب نُور دہاں نُور زباں نُور بیاں نُور دل نُور جگر نُور جبیں نُور نظر نُور گیسو کی ضیا نُور عمامہ کی چمک نُور اُس آیہِ رحمت کی ہے ہر زیر و زبر نُور سر تا بقدم نُور عیاں نُور نہاں نُور ہر سمت تری […]

ہمارے دل سے زمانے کے غم مٹا یا رب

ہو میٹھے میٹھے مدینے کا غم عطا یا رب غمِ حیات ابھی راحتوں میں ڈھل جائیں تری عطا کا اشارہ جو ہوگیا یا رب پئے حسین و حسن فاطمہ علی حیدر ہمارے بگڑے ہوئے کام دے بنا یا رب ہماری بگڑی ہوئی عادتیں نکل جائیں ملے گناہوں کے اَمراض سے شِفا یا رب مجھے دے […]

ہر مَرَض کی دوا درود شریف

دافعِ ہر بلا درود شریف ورد جس نے کِیا درود شریف اور دل سے پڑھا درود شریف حاجتیں سب روا ہوئیں اُس کی ہے عجب کیمیا درود شریف جو محبِ جنابِ احمد ہے اُس کو مونس ہوا درود شریف اے صبا تو ہی جا کے پہنچا دے بر درِ مصطفی درود شریف آپ کا سایہ […]

میرے درد و غم کی دوا ہو رہی ہے

محمد کی محفل عطا ہو رہی ہے شہنشاہِ ارض و سما آ رہے ہیں خدا کی خدائی فدا ہو رہی ہے انہیں مشکلوں میں بنا کر وسیلہ بلاوں سے خلقت رِہا ہو رہی ہے وہ در چوم کے شاید آئی ہے عارف معطر جو بادِ صبا ہو رہی ہے

دل و نظر میں لیے عشقِ مصطفیٰ آؤ

خیال و فکر کی حدّوں سے ماورا آؤ درِ رسول سے آتی ہے مجھ کو یہ آواز یہاں ملے گی تمہیں دولتِ بقا آؤ جلائے رہتی ہے عصیاں کی آگ محشر میں بس اب نہ دیر کرو شافعِ الورا آؤ برنگِ نغمہِ بلبل سنا کے نعتِ نبی ذرا چمن میں شگوفوں کا منہ دھلا آؤ […]

میرے آقا آؤ کہ مدت ہوئی ہے

میرے آقا آؤ کہ مدت ہوئی ہے تیری راہ میں اکھیاں بچھاتے بچھاتے تیری حسرتوں میں تیری چاہتوں میں بڑے دن ہوئے گھر سجاتے سجاتے قیامت کا منظر بڑا پر خطر ہے مگرمصطفی کا جو دیوانہ ہوگا وہ پل پے گزرے گا مسرور ہو کے نعرہ نبی کا لگاتے لگاتے میرا یہ ہے ایماں یہ […]