ہر عاشق رسول یہ نعرہ لگائے گا

بعد از نبی کوئی نبی آیا نہ آئیگا ان منکران ختم نبوت کے مکر سے اب ہر مسلماں جاگ کے سب کو جگائیگا اللہ کے دیں کا غم لئے پھرتا رہیگا جو دست نبی سے جام وہ کوثر کا پائیگا جو مسلمہ کذاب کے سانچے میں ڈھل گئے واللہ کذب کا قافلہ جنت نہ جائیگا […]

تخلیقِ نورِ محمدی

كُنْتُ كَنْزًا حسن کا شوقِ شہود تھی پسِ پردہ تمنائے نمود کنت کنزاً صوفیاء اکرام کے ہاں روایت کردہ ایک حدیث کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ پاک نے فرمایا کہ وہ ایک چھپا ہوا خزانہ تھا اور اس نے چاہا کہ اسے جانا جائے جاودانی حسن کا اظہار ہو دید کی خاطر نگاہِ یار […]

ایک بے نام کو اعزازِ نسب مل جائے

کاش مدّاحِ پیمبر کا لقب مل جائے میری پہچان کسی اور حوالے سے نہ ہو اقتدارِ درِ سلطانِ عرب مل جائے آدمی کو وہاں کیا کچھ نہیں ملتا ہوگا سنگ ریزوں کو جہاں جنبشِ لب مل جائے کس زباں سے میں تری ایک جھلک بھی مانگوں طلبِ حُسن تو ہے حُسنِ طلب مل جائے اب […]

چومیں گے لبِ دل سے طیبہ کی زمیں جا کر

آئے گا قرار اب تو اِس دل کو وہیں جا کر وہ ارض کہ جو رشکِ فردوسِ بریں ٹھہری دیکھیں گے زہے قسمت ہم بھی وہ زمیں جا کر آنکھیں ہیں کہ شرمندہ ، دل ہے کہ بڑا نادم کس کس کو سنبھالوں گا آقا کے قریں جا کر قرآنِ مبیں اکثر سنتے تھے سناتے […]

فخر زماں ہو، فخر نبوت تم ہی تو ہو

دونوں جہاں ہیں جسکی بدولت تم ہی تو ہو ہم عاصیوں کا تم ہی سہارا ہو یا نبی ہم پر خدائے پاک کی رحمت تم ہی تو ہو ہر اک نبی نے جس کی رسالت کا دَم بھرا وہ بے مثال نازِ رسالت تم ہی تو ہو معراج میں یہ راز مشیت عیاں ہوا ہے […]

ایسی ادا سے آج تُو عشق کو انقلاب دے

رخ سے اٹھا نقاب کو، حسن کو آب و تاب دے عقل ہوئی ہے حکمراں، محفلِ کائنات کی عقل کو بد حواس کر، قلب کو اضطراب دے اٹھتے ہیں میرے قلب سے، تیرے شرارِ عشق اب میرے چراغِ ماند کو رونقِ آفتاب دے خاکِ وجود خشک ہے، بحرِ شعور خشک ہے روحِ وجود ایک بار […]

مدینےکا سفر ہے اور میں نم دیدہ نم دیدہ

مدینے کا سفر ہے اور میں نم دیدہ نم دیدہ جبیں افسردہ افسردہ ، قدم لغزیدہ لغزیدہ چلا ہوں ایک مجرم کی طرح میں جانبِ طیبہ نظر شرمندہ شرمندہ بدن لرزیدہ لرزیدہ کسی کے ہاتھ نے مجھ کو سہارا دے دیا ورنہ کہاں میں اور کہاں یہ راستے پیچیدہ پیچیدہ غلامانِ محمّد دور سے پہچانے […]

حسیں رنگ بھاروں کا مسکن مدینہ

محمد کے پیاروں کا مسکن مدینہ کیا اک اشارا ھوا چاند ٹکڑے ان چاند تاروں کا مسکن مدینہ کروڑوں ھیں ھم جیسے آنکھیں بچھائے ھم جیسے ساروں کا مسکن مدینہ وھاں جا کے محسن مٹی بے قراری ھم بے قراروں کا مسکن مدینہ جھاں جبرائل آ کے جھکتے رھے ھیں خوش بخت غاروں کا مسکن […]

سارے حرفوں میں اک حرف پیارا بہت اور یکتا بہت

سارے ناموں میں اک نام سوہنا بہت اور ہمارا بہت اُس کی شاخوں پہ آ کر زمانوں کے موسم بسیرا کریں اک شجر، جس کے دامن کا سایہ بہت اور گھنیرا بہت ایک آہٹ کی تحویل میں ہیں زمیں آسماں کی حدیں ایک آواز دیتی ہے پہرا بہت اور گھنیرا بہت جس دئیے کی توانائی […]

اے کہ ہے حسن ترا زینت و عنوانِ جمال

اے کہ ہے ذات تری یوسف کنعانِ جمال اے کہ ہے نور ترا روغنِ تصویرِ وجود اے کہ ہے نام ترا رونقِ ایوانِ جمال اے کہ زلفوں سے تری عشق کی شامیں روشن اے کہ چہرہ ہے ترا صبح درخشانِ جمال جز ترے کون ہے مخدومِ جہانِ خوباں جز ترے کون ہے کونین میں سلطانِ […]