نہ رخشِ عقل، نہ کسب و ہنر کی حاجت ہے

بنی کی نعت ریاضت نہیں، سعادت ہے یہ کافروں کا بھی ایماں تھا اُن کے بارے میں جو اُن کے پاس امانت ہے، باحفاظت ہے ہے امر اُن کا ہمارے لیے خدا کا امر کہ جو ہے اُن کی اطاعت، خدا کی طاعت ہے ہے اُن کا ذکرِ گرامی عروجِ نطق و بیاں یہ اُن […]

دل الفت سرکار بسانے کے لئے ہے​

جاں آپ کی حرمت پہ لٹانے کے لیے ہے​ دل کہنے لگا کرتے ہی روزے کا نظارہ​ یہ نقش تو آنکھوں میں سجانے کے لیے ہے​ ​  پیغام سناتی ہے یہی آیہ تطہیر​ عزت میرے آقا کے گھرانے کے لیے ہے​ ​ہم امتی ان کے ہیں تو کیسے رہیں محروم​ جب ان کا کرم سارے […]

معرفت کا نور ہے اور آگہی قرآن ہے

جس سے انساں کو ملی ہے روشنی قرآن ہے اب غرض تجھ سے نہیں ہے مجھ کو بزمِ کائنات عاشقِ سرکار ہوں ، دنیا مری قرآن ہے مضطرب رہتے ہیں جو یہ ان کو سمجھائے کوئی پڑھ کے تو دیکھو ، سکونِ دائمی قرآن ہے سینہء اطہر پہ یہ نازل ہوا سرکار کے درحقیقت مومنوں […]

کون کہتا ہے مجھے شان سکندر دے دے

میرے معبود مجھے فقر ابو ذرؑ دے دے مالک لوح و قلم، بہر جہاد قلمی مجھ کو الفاظ و مفاہیم کا لشکر دے دے عشق جو تو نے اویس قرنیؑ کو بخشا ہو جو ممکن تو مجھے اس سے فزوں تر دے دے تاجور بھی میرے قدموں میں سعادت ڈھونڈیں زینت سر کو جو نعلین […]

تو جو اس وصف سے منسوب ہوا، خوب ہوا

یعنی فرزندِ خدا خوب ہوا، خوب ہوا دونوں عالم کا تو ہی شافع ہے اے میرے مسیح طالبوں کا تو ہی مطلوب ہوا، خوب ہوا حشر میں فخر نہ کیونکر ہو تری امت کو جان دینا تجھے مرغوب ہوا، خوب ہوا کوئی کونین میں نوری نہ ہوا تیرے سوا جلوۂ حق سے خوش اسلوب ہوا، […]

میں نے جب نعت کے اشعار سے باتیں کی ہیں

یوں لگا احمدِ مختار سے باتیں کی ہیں اے مرے پیارے تخیل ترے صدقے جاؤں تو نے اکثر مرے سرکار سے باتیں کی ہیں اس کی تعریف میں الفاط بھی کم پڑ جائیں جس کے اک سجدے نے تلوار سے باتیں کی ہیں عشقِ سرکار میں یہ حال ہوا ہے اکثر میں نے گھر کے […]

خزاں کے مارے ہوئے جانبِ بہار چلے

قرارِ پانے زمانے کے بیقرار چلے وہیں پہ تھام لیا ان کو دستِ رحمت نے نبی کے در کی طرف جب گنہگار چلے اے تاجدارِ جہاں ، اے حبیبِ رب کریم وہ بھیک دو کہ غریبوں کا کاروبار چلے سمجھ کے تاج سلیماں حضور کی نعلین سروں پہ رکھ کے زمانے کے تاجدار چلے ہمارے […]

کلامِ پاک میں اللہ نے بس یہ ہی بتلایا

نبی کا جو نہ ہو پائے ہمارا، ہو نہیں سکتا غلامِ مصطفٰی ہو اور جہنم میں چلا جائے خدائے مصطفٰی کو یہ گوارا، ہو نہیں سکتا نزع کا وقت ہو اور سامنے تیرے مدینہ ہو نصیب اس سے گہر اچھا تمہارا، ہو نہیں سکتا جہاں ملتا ہے بے مانگے ، دَرِ قاسِم فقط لوگو بَجُز […]

محمد شہ نشینِ بزمِ امکاں، خسروِ عالم

محمد شارحِ سرِّ ازل، اعجازِ فرقانی شگفتہ تر شدہ روئے زمیں، ہر نقشِ فطرت گفت خوشا! اے رحمت اللعالمیں! عنوانِ قرآنی عیاں چو روزِ روشن کرد او بطلانِ باطل را سوئے دنیائے پرظلمات چوں نور الہدیٰ آمد محمد حرفِ آخر ہست گر جویائے حق بودی ببیں! مہرِ مجسم، مظہرِ صدق و صفا آمد غریبم، بے […]

بھلیو بھلی وچ جگ دے ہَین سوہنے

بھلیو بھلی وچ جگ دے ہَین سوہنے سوہنے نہیں پر میری جناب ورگے اوہ جہدے پسینیاں وچ ہلے رکھے گئے نیں عطر گلاب ورگے چہرہ ماہِ کنعان دا ویکھ کے تے ماہ وشاں نے انگلیاں چیر لیاں اوہدی اک انگشت دا ویکھ جلوہ سینے چاک کر لین مہتاب ورگے بالو ریت تتی تتی ہیٹھ کنڈاں […]