نظامِ آفرینش کا تو ہی عنوان ہے ساقی
بجسمِ عالمِ امکاں تو مثلِ جان ہے ساقی ترا میخانۂ وحدت عظیم الشان ہے ساقی برائے میگساراں دورِ مے ہر آن ہے ساقی مئے وحدت، مئے کوثر، مئے عرفان ہے ساقی ترے رندوں کی خاطر اف بڑا سامان ہے ساقی خدا کے فضل سے تجھ پر مرا ایمان ہے ساقی نہیں دل ہی سے پیارا […]