دل برد از من دیروز شامے فارسی

دل برد از من دیروز شامے فتنہ طرازے، محشر خرامے روئے مبینش صبح تجلی لوح جبینش ماہ تمامے مشکیں خط او سنبل بہ گلشن لعلیں لب او بادہ بہ جامے چشمے کہ کوثر یک جرعہء او قدے کہ طوباش ادنی غلامے عارض چہ عارض گیسو چہ گیسو صبحے چہ صبحے شامے چہ شامے آں تیغ […]

ہر شاخِ ادب ذکر سے تیرے ہی سپھل ہو

چاہے وہ قصیدہ ہو کہ وہ نظم و غزل ہو تم باعثِ ایں عالمِ اسباب و علل ہو محبوبِ خدا ختمِ رسل سِرِّ ازل ہو جس دل میں تری حب بمقدارِ اقل ہو ہنگامۂ ہستی کا نہ اس دل پہ خلل ہو انگلی کا اشارہ ہو تو یہ ردِ عمل ہو ٹل جائے وہ تقدیرِ […]

دستِ طرفہ کارِ فطرت نے سمو دی طرفگی

از ہمہ پہلو ہے دلکش ذاتِ پاکِ آں نبی اب نہیں کوئی نبی بعد از رسولِ ہاشمی تا قیامت اب تو لازم ہے اسی کی پیروی منبعِ نورِ بصیرت چشمۂ ہر آگہی آپ پر نازل ہوئی ہے جو کتابِ آخری تذکرہ اس کا نہیں محدود روئے ارض تک آسمانوں پر فرشتوں میں بھی ہے ذکرِ […]

جامعِ اوصاف ہے جو حسن کی تصویر ہے

وہ نبی مجھ کو ملا ہے یہ مِری تقدیر ہے کیا ہے زورِ حیدریؓ کیا قوت شبیرؓ ہے زورِ بازوئے محمد ہی کی اک تعبیر ہے تزکیہ اخلاق کا، افکار کی تطہیر ہے ہر طرح تذکیر ہے، تنذیر ہے، تبشیر ہے کس طرح سنورے بشر غوطہ زنِ تدبیر ہے وہ کہ ہے معمارِ انساں فکرِ […]

نُورِ سرکار‏ نے ظلمت کا بھرم توڑ دیا

کفر کافور ہوا شِرک نے دَم توڑ دیا سوزِ غم ختم کیا سازِ سِتم توڑ دیا آپ نے سلسلہء رنج والم توڑ دیا نعرہ زن رِند بڑھے ساقیِ محشر کی طرف جامِ کوثر جو مِلا ساغرِ جم توڑ دیا دستِ قدرت! ترے اِس حسنِ نگارش پہ نثار نام وہ لوح پر لکّھا کہ قلم توڑ […]

ہر طرف تیرگی تھی نہ تھی روشنی

آپ آئے تو سب کو ملی روشنی بزمِ عالم سے رخصت ہوئی ظلمتیں جب حرا سے ہویدا ہوئی روشنی چاند سورج کا انساں پرستار تھا آپ سے قبل اندھیرا تھی روشنی سوئے عرشِ علٰی مصطفیٰ کا سفر روشنی کا طلبگار تھی روشنی ہے وہ خورشیدِ اطلاق خیر البشر جس سے پاتا ہے ہر آدمی روشنی […]

جب بھی آنکھوں نے مری گنبدِ خضرا دیکھا

نور میں ڈوبا ہوا اپنا سراپا دیکھا معجزہ یہ بھی شہ دیں کا ہے بیشک ورنہ سوکھے تھن سے بھی کبھی دودھ نکلتا دیکھا؟ یہ مدینہ ہے مقام اس کا خدا ہی جانے تاج والوں کو بھی اس خاک پہ جھکتا دیکھا آپ کے حکم پہ انسان کیا کنکریوں کو مشتِ بوجہل میں پڑھتے ہوئے […]

ہم نے تجھے جانا ہے فقط تیری عطا سے

سورج کے اجالوں سے، فضاؤں سے ، خلا سے چاند اور ستاروں کی چمک اور ضیا سے جنگل کی خموشی سے، پہاڑوں کی انا سے پرہول سمندر سے ، پراسرار گھٹا سے بجلی کے چمکنے سے ، کڑکنے کی صدا سے مٹی کے خزانوں سے، اناجوں سے، غذا سے برسات سے، طوفان سے، پانی سے، […]

حق کا یہ انقلاب مرے مصطفٰی سے ہے

رحمت بھرا سحاب مرے مصطفٰی سے ہے اے خاکِ پاک شہرِ مدنیہ جو ہے ترا ہر ذرہ آفتاب مرے مصطفٰی سے ہے پڑھ کر جسے شعور ملا ہم کو زیست کا وہ نور کی کتاب مرے مصطفٰی سے ہے ہم ہیں عذاب قہر الہی کے مستحق ہاں دور ہر عذاب مرے مصطفٰی سے ہے اُس […]

چاند سے اُن کے چہرے پر گیسوئے مشک فام دو

دن ہے کھلا ہوا مگر وقتِ سحر ہے شام دو روئے صبیح اک سحر زلفِ دوتا ہے شام دو پھول سے گال صبح دم مہر ہیں لَالَہ فام دو عارضِ نور بار سے بکھری ہوئی ہٹی جو زلف ایک اندھیری رات میں نکلے مہِ تمام دو اُن کی جبینِ نور پر زلفِ سیہ بکھر گئی […]