وہاں حضور کے خدّامِ آستاں جائیں
جہاں کبھی نہ سلاطین کے گماں جائیں ہوئے نہ منّتِ اغیار کے کبھی قائل ’’ فقیر آپ کے در کے ہیں ہم کہاں جائیں ‘‘ ؟ ثنائے صاحبِ خلقِ عظیم کا ہے اثر کہ آئیں خوبیاں ناعِت میں ، خامیاں جائیں ترے غلام کلیمی کے بِن ترے صدقے بناتے راستے دریا کے درمیاں جائیں ثنائے […]