وہاں حضور کے خدّامِ آستاں جائیں

جہاں کبھی نہ سلاطین کے گماں جائیں ہوئے نہ منّتِ اغیار کے کبھی قائل ’’ فقیر آپ کے در کے ہیں ہم کہاں جائیں ‘‘ ؟ ثنائے صاحبِ خلقِ عظیم کا ہے اثر کہ آئیں خوبیاں ناعِت میں ، خامیاں جائیں ترے غلام کلیمی کے بِن ترے صدقے بناتے راستے دریا کے درمیاں جائیں ثنائے […]

اعجاز مصطفٰی نے کیا کیا دکھا دیے ہیں

اَن پڑھ کیے معلِّم، ویراں بسا دیے ہیں پتّھر کے بارہ چشموں سے ہے عجیب تر یہ آقا نے انگلیوں سے دریا بہا دیے ہیں چاند آئے گا ہمارا ، اس واسطے سرِ شام ہم نے چراغ اپنے گھر کے بجھا دیے ہیں راتوں کو رونے والے آقا نے تُربتوں میں دلہن کی طرح اپنے […]

جانِ جہاں کے دم سے ہی دم ہے رگِ حیات میں

قلب ہیں میرے مصطفیٰ سینۂِ کائنات میں جب سے نجومِ نعت ہیں چمکے تخیلات میں تب سے تصورات ہیں ڈوبے تجلیات میں خوفِ سقوطِ چاہ کیا ؟ حاجتِ خضرِ راہ کیا ؟ قبلہ تِری نگاہ کا دِکھتا ہے شش جہات میں پھولوں میں ہے مہک تِری ، تاروں میں ہے چمک تِری چہرے کا نور […]

مصرعے سارے معرّا ہوں ، الگ سی لِکُّھوں

مدح سرکارِ دو عالم کی وہ عالی لکھوں مالک الملک کی اَملاک کا مالک ہے وہی آلِ داؤد کی کُل مِلک اسی کی لکھوں وہ کہ اسرٰی کو ہوا سارے رسولوں کا امام کُل عوالِم کا اسے مولا و ھادی لِکھوں عَلَّمَک سے ہے کُھلا علمِ محمد کا عُلو علمِ آدم کو عطائے درِ عالی […]

چشم و لب ہائے نبی کا معجزہ کہنے کو ہیں

آج ہم درسِ اشارات و شفا کہنے کو ہیں ” آمدِ  جانِ بہاراں کی صبا لائی خبر بلبلیں ہیں مست ، گل صلّ علیٰ کہنے کو ہیں قیصر و کسریٰ ابھی ہو جائیں دو زانو ، کہ ہم مدحتِ خدّامِ شاہِ انبیا کہنے کو ہیں ہے طلوع صبح مدحت مطلعِ گفتار پر چہرۂِ پر نور […]

حضور قلب ہے بے چین مجھ سے راضی ہوں !

حضور صدقۂ حسنین مجھ سے راضی ہوں ! حضور دیکھیے ! میری وسیلہ جوئی کو شفیع لایا ہوں شیخین مجھ سے راضی ہوں ! خدیجہ ، فاطمہ زہرا و عائشہ کے طفیل حضور از پئے ختنین مجھ سے راضی ہوں سنا ہے عذر ہے مقبول ، عَفو ہے معمول کروں نظارۂِ خبرین مجھ سے راضی […]

ہے ناطِقِ مَا اَوْحٰی اِک تیرا دہن جاناں

تو روحِ معانی ہے تو جان سخن جاناں تاروں میں چمک تیری ہے جلوہ فگن جاناں پھولوں میں تِری خوشبو ، تو اصلِ چمن جاناں گر آؤ گلستاں میں ،گُل کترے قبا اپنی قدرت نے تراشا یوں ہے تیرا بدن جاناں ! کیا ماہِ دو ہفتہ پر ملبوس گلابی ہے یا حُلّۂِ حمرا میں ہے […]

میں کہ سگِ بلال ہوں ، مجھ پہ اندھیر چھائے کیوں

واصفِ بے ظِلال ہوں مجھ پہ ہوں غم کے سائے کیوں ؟ وصفِ لبِ حضور سے رشکِ گلاب ہے سخن فن ہے بہارِ نعت میں ، اس پہ خزاں پھر آئے کیوں ؟ جذبِ دروں کی خیر ہو ، شوقِ فزوں کی خیر ہو ذوق جنوں کی خیر ہو ، کوئی انہیں بُھلائے کیوں ؟ […]

نام جن کا ہے درِ شاہ کے دربانوں میں

دھوم ہے ان کی عنایات کی سلطانوں میں یا خدا ! مجھ کو کیا ان کے ثنا خوانوں میں سب سے اعلیٰ ہے یہ احساں تِرے احسانوں میں نام مصری سے بھی میٹھا جو محمّد کا لیا شہد سا دوڑ گیا ہے مِری شریانوں میں” نُطقِ یُوحٰی کی فصاحت کے ہیں ہر سُو چرچے دھوم […]

تیرے ہر اک کمال کو تَفرید گَہ کہوں

گر شرع اذن دے ، تجھے توحید گہ کہوں دیکھا ہے جس نے ناخنِ پا کے ہلال کو اس خوش نصیب آنکھ کو میں عید گہ کہوں بے مثل آئِنہ ! اے جبینِ شہِ عرب ! تجھ کو علومِ لَوح کی تقیید گہ کہوں اِثبات و مَحو پر تجھے قدرت ہے خطِّ کَف ! تجھ […]