مَطلعٔ صبحِ درخشاں ہے رسولِ عربی

مَقطعٔ شامِ غریباں ہے رسولِ عربی صفحۂ زیست کا ابجد ہے یہ اسمِ اعظم بابِ کونین کا عنواں ہے رسولِ عربی ہفت آفاق کی گردش کا یہی محور ہے مرکزِ عالمِ امکاں ہے رسولِ عربی اس نے آگاہی و دانش کے خزینے بانٹے کشورِ فکر کا سلطاں ہے رسولِ عربی نام لیوا ہو محمد کا […]

لِکھ اے قلم! حضورِ رسالت مآب میں

ایک خطابیہ شاعر لِکھ اے قلم! حضورِ رسالت مآب میں اک نعتِ پاک حاصلِ ایماں کہیں جسے سر بہرِ سجدہ خَم ہو ترا حرف حرف پر آنکھوں کی کیفیت کہ چراغاں کہیں جسے جذبے بکھیر دے مرے قرطاسِ نعت پر ایسی فضا کہ بزمِ فروزاں کہیں جسے خوشبو طلوع کر، مری سوچوں کی راہ میں […]

(قصیدہ میمیہ) ایک دن یوں ہُوا وہ ماہِ تمام

ایک دن یوں ہُوا وہ ماہِ تمام ساکنانِ چمن سے محوِ کلام! مجھ کو دیکھو، اے زادگانِ بہار میں ہوں گردش میں صبح سے تا شام ایک لمحہ نہیں ہے مجھ کو قرار! دن کو راحت نہ رات کو آرام! میکدے کے رئیسِ اعظم نے مجھ کو رکھا ہے مستِ موجِ خرام! میرے چلنے سے […]

زمزمہ ریز ہیں گلزار، رسولِ عربی!

نعت خواں برگ و گل و خار، رسولِ عربی! بزمِ کونین کی ہر چیز ہے مصروفِ ثنا دشت و دریا ہوں کہ کہسار، رسولِ عربی! صبح کا وقت ہے اور جھومتے لمحوں کا وجود نشۂ مدح میں سرشار رسولِ عربی! عالمِ قدس سے پہنچی ہے مشامِ جاں تک آپ کے نام کی مہکار، رسولِ عربی! […]

وہ مُبتدا کہ مرکزی نقطہ حیات کا

وہ مُنتہا کہ ختمِ رسل کائنات کا تجسیم جس کی علّتِ تخلیق روزگار باعث ہے جس کا نام سبھی ممکنات کا ہر بات جس کی ایک سماوی کتاب ہے ہر لفظ اک صحیفۂ دِل جس کی بات کا مذکور جس کا نام ہر اک انجمن میں ہے موضوعِ دلپذیر ہے جو شش جہات کا جس […]

مجھ کو نہیں ہے گوہر و یاقوت کی اُمنگ

زیبا میری جبیں کو درِ مصطفی کا سنگ تجھ سے کلاہِ قیصر و کسریٰ میں لرزشیں ہے زرد تیرے خوف سے لات و ہُبَل کا رنگ وہ جلوہ گاہیں جو ترے قدموں کی دھول ہیں روح القدس کی فکر ہے ان منزلوں میں دنگ تُو نے شعورِ عظمتِ آدم کے بوئے بیج تُو نے سکھائے […]

میں پیاس کا صحرا ہوں، تُو دریا کا خزینہ

تُو قاسمِ تسنیم ہے، حاجت مری پینا تُو وہ ہے کہ ہر حُسن تری ذات سے مُشتَق میں وہ ہوں، کہ مجھ میں نہ سلیقہ نہ قرینہ تُو قلزمِ آفاق کا ہے ساحلِ مقصود میں بحرِ پُر آشوب میں کاغذ کا سفینہ میں سنگ کا ریزہ ہوں نہ وُقعت نہ حقیقت تُو فرقِ فلک کیلئے […]

اے وقت، میں مرغوب نہیں شوکتِ جم سے

نسبت مرے کشکول کو ہے شاہِ امم سے اے حشر کے سورج کی تپش، دیکھ! خبردار وابستہ ہوں سرکار کے دامانِ کرم سے اے دشتِ تحّیر میں بھٹکتے ہوئے راہی ضَو مانگ، محمد کے جلَی نقشِ قدم سے اے درد، نہ مِنت کشِ پیغام رساں ہو واقف ہیں وہ ہر وقت مری حالتِ غم سے […]

شاعرِ نعت کی اعجاز بیانی تجھ سے

زیب و آرائشِ الفاظ و معانی تجھ سے اصلِ خود، وحدتِ رب، علمِ اصولِ اشیا ہر حقیقت مرے ادراک نے جانی تجھ سے تری تخلیق سے لمحوں کو ملی خوئے مزاج شب کی لیلائی میں ہر صبح سہانی تجھ سے ترے دربارِ سماعت میں کھڑا ہوں حیراں کس طرح عرض کروں اپنی کہانی تجھ سے […]

جاہلیت کی جہاں سے دُور آلائش ہوئی

آپ آئے، عالمِ امکاں کی زیبائش ہوئی اس مکاں کے بام و در کے ذرّے ذرّے پر دُرود جس مکاں میں سّیدِ والا کی پیدائش ہوئی میری سانسیں آپ کی صبحِ ولادت پر نثار جس کے صدقے میں مری بخشش کی گنجائش ہوئی جھک کے چلنے والے پورے قد پہ پھر چلنے لگے خود شناسی […]