خوش بختی پہ نازاں ہے یہ سرکار مدینہ

ہاتھ آیا ہے دل کو تیری الفت کا نگینہ لے جائے جو قسمت مجھے اک بار مدینہ پھر لوٹ کے گھر آؤں گا واپس میں نہ کبھی جب پیشِ مواجہ میں گنہگار کھڑا تھا پیشانی سے بہتا تھا ندامت کا پسینہ آباد ہے نظاروں کا اک شہر نظر میں موجود ہے دل میں تیری یادوں […]

رنج و ملال و درد کو پا مال کر دیا

ذکرِ رسولِ پاک نے خوش حال کر دیا آنکھوں کو دیکھیے میرے دل کو ٹٹولیے ہجرِ مدینہ نے جو میرا حال کر دیا تیرہ شبوں کو دولتِ اخلاص بخش دی نادار کو بھی صاحبِ اقبال کر دیا چوکھٹ کو چومنے کی اجازت عطا ہوئی مجھ پر کرم حضور نے امسال کر دیا محشر میں پہلے […]

یاد کر کے انہیں حظ اٹھانے لگے

’’ دن مدینے کے پھر یاد آنے لگے ‘‘ آ گئی یاد طیبہ کی یاد آ گئی دیدۂ لفظ آنسو بہانے لگے سسکیاں لے رہی تھی حیاتِ بشر آپ آئے سبھی غم ٹھکانے لگے باندھ لو تم بھی رختِ سفر باندھ لو قافلے پھر مدینے کو جانے لگے مل گیا دامنِ مصطفیٰ مل گیا ہاتھ […]

یا محمد جوآپ کا نہ ہوا

یا محمد جو آپ کا نہ ہوا واقفِ ذاتِ کبریا نہ وہا درد بڑھتا رہا دوا نہ ہوا عشق دل کا جو آئینہ نہ ہوا ان کا احسان مان دشمن جاں ہاتھ مصروفِ بد دعا نہ ہوا کٹ گئے مرحلے سفر کے مگر طے عقیدت کا مرحلہ نہ ہوا عمر بھر نعتِ مصطفیٰ لکھی قرضِ […]

آپ کے روضے پہ آؤں یا نبی

داستانِ غم سناؤں یا نبی آپ کی صورت چراغِ زندگی آپ کی سیرت ہے چھاؤں یا نبی آپ کی یادوں سے رکھوں صرف کام زندگانی یوں بتاؤں یا نبی اشک چہرے پر لکھیں حرفِ دعا میں جو اپنے ہاتھ اٹھاؤں یا نبی در بدر کیوں آپ کے ہوتے ہوئے ٹھوکریں دنیا کی کھاؤں یا نبی […]

اگر مدینے کے ذروں سے دل لگی کرتے

ہم اپنے شہرِ تخیل میں روشنی کرتے ایک عمر بیت چلی دوسری اگر ملتی رقم حضورِ مکرم کے وصف ہی کرتے رہا ہے سر پہ ہمیشہ خڈا کا لطف و کرم حیات گزری ہے اپنی نبی نبی کرتے خوشا نصیب کہ گزری ہے اطمینان کے ساتھ نبی کے شہر کی گلیوں سے دوستی کرتے زمانے […]

بے طلب چاہیے بے سبب چاہیے

ذکرِ خیر الوریٰ روز و شب چاہیے ان کے در پر جھکا دو جبینِ سخن گر تمہیں نعت کہنے کا ڈھب چاہیے دل میں آلِ نبی کی محبت بھی ہو ان کے اصحاب کا بھی ادب چاہیے صبحِ طیبہ کو رکھ اپنے احساس میں محفلِ عشق میں گر طرب چاہیے کچھ ضرورت نہیں زر کے […]

مواجہ کے آگے وہ آنسو بہانا

وہ حالِ غمِ دل نبی کو سنانا وصال و جدائی کا ہے اک فسانہ مدینے کو جانا مدینے سے آنا وہ دنیا میں نعتِ نبی گنگنانا بنا روزِ محشر جزا کا بہانہ نہیں بھول پایا مرا غم زدہ دل مدینے میں گزرا ہوا وہ زمانہ خیال و قلم ہیں اسیرِ محبت تعلق ہے شہرِ نبی […]

آج تک اس کا کیف طاری ہے

جو مدینے میں شب گزاری ہے جام بھر بھر کے پی رہے ہیں سبھی چشمۂ فیضِ عام جاری ہے دل مدینے کی سمت جانے لگا جب چلی بادِ نو بہاری ہے امتی ہیں شفیعِ محشر کے خوش نصیبی بڑی ہماری ہے ہم کو پھر ابرہہ نے گھیر لیا کعبۂ دل پہ سنگ باری ہے شادمانی […]

ہدیہ درود کرتا ہوں خیر البشر کو میں

یوں معتبر بناتا ہوں اپنے ہنر کو میں دستِ تسلی رکھتے ہیں سینے پہ وہ مرے جب بھی سناؤں حال شہِ بحر و بر کو میں خانہ بدوش پھرتا تھا شہرِ نبی سے دور دل میں اٹھائے معرکۂ خیر و شر کو میں پھر یوں ہوا کہ مجھ کو بلایا حضور نے بے اختیار چل […]