میرا دل دل نہیں ہوتا یہ بیاں ہوتا

نامِ احمد جو نہ لکھتا تو یہ ویراں ہوتا ہجرِ طیبہ کا اگر داغ نمایاں ہوتا پھر میرا سینہ بھی صد رنگ گلستاں ہوتا رابطہ سرورِ کونین سے گر رکھتا بحال آج کے دور کا انساں نہ پریشاں ہوتا اپنی پلکوں سے کیا کرتا صفائی ہر روز میں درِ احمدِ مختار کا درباں ہوتا کاش […]

یادِ رسولِ پاک کو مہماں کیے ہوئے

اپنے ہر ایک درد کا درماں کیے ہوئے نامِ نبی سے بزم فروزاں کیے ہوئے بیٹھے ہوئے ہیں دل کو شبستاں کیے ہوئے ان میں اتر اے کوچۂ محبوب کی ہوا لفظ و قلم چاک گریباں کیے ہوئے جی چاہتا ہے گنبدِ خضریٰ کی چھاؤں میں بیٹھے رہے نثارِ دل و جاں کیے ہوئے ہے […]

ملکِ بہار کی طرف ان کے دیار کی طرف

رخ ہے میری جبین کا شہر نگار کی طرف روحِ امینؑ کے قدم سدرہ پہ جا کے رک گئے میرے نبی چلے مفر سدرہ سے پار کی طرف میں بے عمل گناہ گار تیرے کرم پہ انحصار دھیان مرا ہے یا رسول روزِ شمار کی طرف جانے لگے ہیں قافلے شہرِ مدینہ کی طرف رشک […]

ذاتِ احمد کا ہر اک شخص کو عرفاں ہونا

سخت دشوار ہے اس عقدے کا آساں ہونا حاصلِ زندگی ہے صاحب ایماں ہونا اور معراجِ یقیں آپ پہ قرباں ہونا ہاں وہی لمحے میری زیست کا سرمایہ ہیں یاد آتا ہے مجھے آپ کا مہماں ہونا ان کے دربار یوں ہوتا تھا احساس مجھے جیسے قدموں کے تلے تختِ سلیماں ہونا ایک اعجاز سیاہی […]

پھر مدینے کا سہانا وہ سفر یاد آیا

تیرا روضہ تیری مسجد تیرا گھر یاد آیا مجھ کو پیشانی سے لپٹے ہوئے سجدوں کی قسم تیری چوکھٹ تیرا منبر تیرا در یاد آیا جب کبھی آیا مدینے سے جدائی کا خیال دل کو پھر گریہ و زاری کا ہنر یاد آیا باغِ جنت کی طرح قبر سجی تھی میری مجھ کو مولا کی […]

پھر مدینے کا سفر یاد آیا

تیرا روضہ تیرا گھر یاد آیا بڑھ کے سینے سے لگایا تم نے جو بھی کرتا ہوا فریاد آیا ہجرتِ شہرِ مدینہ کی قسم مجھ کو رہ رہ کے وہ در یاد آیا چشمِ الفاظ سے آنسو نکلے جب ترا دیدۂ تر یاد آیا نامِ سرکار کو پتوار کیا جب سفینے میں بھنور یاد آیا […]

عرب دیکھتے ہیں عجم دیکھتے ہیں

تیری سمت شاہِ امم دیکھتے ہیں دلوں میں دھڑکتی ان کی محبت جبینوں پہ سجدے رقم دیکھتے ہیں خدا نے انہیں رحمتِ کل بنایا عدا پر بھی ان کا کرم دیکھتے ہیں جب آتا ہے نامِ محمد لبوں پر پرے بھاگتے درد و غم دیکھتے ہیں خدا کی رضا کے لیے سب سے آگے نبی […]

نعتِ احمد زبان پر اتری

خوشبو دل کے مکان پر اتری ہو نگاہِ کرم رسولِ خدا پھر مصیبت جہان پر اتری ناؤ گرداب سے نکل آئی جب عطا بادبان پر اتری دنیا برباد ہونے والی تھی تیری رحمت جہان پر اتری ایک بجلی بروزِ عاشورہ آپ کے گلتسان پر اتری ذکر صل علیٰ چھڑا مظہرؔ اک لطافت بیان پر اتری

ہوں گناہوں سے چور چور حضور

کیجیے میرے غم بھی دور حضور چھوڑ آیا ہوں جب سے طیبہ کو زندگانی ہے بے سرور حضور غایتِ حرفِ کن ہے ان کی ذات عرش اور فرش کا ہیں نور حضور ان کا ادنیٰ سا امتی ہوں میں میرا عز و شرف غرور حضور لمسِ خاک مدینہ چاہتا ہے یہ مرا قلبِ نا صبور […]