پردۂ آفاق میں ڈوب گیا آفتاب

ہونے لگا خیمہ زن شب کا طلسمِ حجاب چلنے لگی دہر میں بادِ سمومِ فریب پھیل گئی چارسو تیرگیِ اضطراب بڑھنے لگی ہر طرف قہر و ہلاکت کی لہر گرنے لگی جبر کی برق سراپا عتاب گل کدۂ زیست تھا دشت سکوت ضمیر خامش و بے صوت و رنگ مثل شبستانِ غاب عقل و خرد […]

جنہیں ان کے در سے اجازت ملی ہے

انہیں حاضری کی سعادت ملی ہے درِ مصطفٰی آسرا بے کسوں کا یہ قرآں سے ہم کو شہادت ملی ہے خطا کار پہنچا ہے جو بھی مدینے اسے مغفرت کی ضمانت ملی ہے عمرؓ بوبکرؓ کے مقدر پہ قرباں لحد میں بھی ان کو رفاقت ملی ہے غنیؓ اور حیدرؓ کی رفعت بھی دیکھو قرابت […]

خلوت میں کبھی یاد جو آئی ترے در کی

سوچوں میں ہی تصویر بنائی ترے در کی شاہوں کے وہ صد ناز اٹھاتا بھی تو کیسے تھی جس کے مقدر میں گدائی ترے در کی آتے ہیں سلامی کو شب و روز فرشتے خلّاق نے یہ شان بنائی ترے درکی سرکار! بناؤں گا اسے آنکھ کا سرمہ اس شوق میں کچھ خاک اٹھائی ترے […]

زندگی میرے نبی کی اک جلی تحریر ہے

خُلق ان کا سر بسر قرآن کی تفسیر ہے نامِ احمد کی حلاوت سے ہوئی سرشار روح آپ کے اسمِ گرامی کی عجب تاثیر ہے گُنبدِ خضرا کو دیکھا بجھ گئی سب تشنگی شکرِ باری ! یہ ہی میرے خواب کی تعبیر ہے سینۂ ارضی پہ کوئی جس جگہ غمگین ہو ہر کسی کے واسطے […]

ہے سب سے جُدا سیدابرار کا عالم

ہے سب سے جُدا سید ابرار کا عالم لائیں جو تصور میں وہ انوار کا عالم محمود کے منصب پہ ہوا ان کا تمکّن ہو کس سے بیاں احمد مختار کا عالم ہوتا ہے جہاں ان پہ سلاموں کا وظیفہ اس گھر پہ سدا رہتا ہے انوار کا عالم قُرآن میں اخلاق حمیدہ کا ہے […]

ہر ایک مقام پہ اصلِ نشانِ رحمت ہے

حضور آپ کا اُسوہ جہانِ رحمت ہے زمینِ دل پہ ہے روِز ازل سے سایہ فگن حضور آپ کی ہر بات شانِ رحمت ہے وہی تو گالیاں سن کر دعائیں دیتے ہیں اُنہی کا خُلق ہی روحِ بیانِ رحمت ہے عمل سے عاری ہے لیکن نہیں تہی داماں ترا غلام ہے اور درمیانِ رحمت ہے […]

وہ مکرّم وہ اعلیٰ و اولیٰ

وہ امامِ رسل ہے صلَِّّ اللہ ہر گھڑی ہی کرم ہوا اس کا وہ ہے ہر ہر گھڑی کی دل کی صدا وہ ہے ملہم وہ محرمِ اللہ وہ ہے اسرار و آگہی کا سِرا مدحِ احمد ہوئی ہے دل کی صدا اس سے حاصل ہوئی ہے مہر و عطا وہ محمد ہے سرورِ عالم […]

حمد و ثنا سے پہلے زباں پاک کیجیے

بعد اسکے ذکر صاحب لولاک کیجیے دل میں چھپا کے جذبۂ عشق رسول پاک جان و جگر کو اپنے طربناک کیجیے مشغول ہو زبان درود و سلام میں یوں دستیاب روح کی خوراک کیجیے یادوں کا اپنی دے کے اجالا مرے حضور سینے سے ظلمتوں کا جگر چاک کیجیے کیجے بیاں جو گنبد خضریٰ کی […]

بڑا کھٹکا لگا رہتا تھا دنیا میں قیامت کا

یہاں تو گرم ہے بازار آقا کی شفاعت کا تڑپتا ہی رہوں کیا میں تمنائے مدینہ میں خدایا کچھ تو حل نکلے مری دیر ینہ حسرت کا جہاں میں نام ہے روشن نبی کے چار یاروں سے صداقت کا، عدالت کا، سخاوت کا، شجاعت کا وہاں سے آنے والوں کی زباں پر ہے یہی کلمہ […]

وہ دلکشی ملی نہ کہیں اور دہر میں

آئی نظر جو رحمت عالم کے شہر میں گر لمس دست ناز ترا ہو اسے نصیب اثرات زندگی کے مرتب ہوں زہر میں سیل کرم تھا وہ کہ ہر اک کوہ رنج وغم تنکے کی طرح بہہ گیا بس ایک لہر میں تعظیم مصطفےٰ سے کیا جس نے انحراف وہ شخص مبتلا ہوا قدرت کے […]