پردۂ آفاق میں ڈوب گیا آفتاب
ہونے لگا خیمہ زن شب کا طلسمِ حجاب چلنے لگی دہر میں بادِ سمومِ فریب پھیل گئی چارسو تیرگیِ اضطراب بڑھنے لگی ہر طرف قہر و ہلاکت کی لہر گرنے لگی جبر کی برق سراپا عتاب گل کدۂ زیست تھا دشت سکوت ضمیر خامش و بے صوت و رنگ مثل شبستانِ غاب عقل و خرد […]