ماورا فہم و تخیل سے ہے رتبہ تیرا
کیا کرے تیری ثنا بندۂ ادنیٰ تیرا بحر عظمت کا ترے ایک جو قطرہ لکھدوں وہ بھی ہوگا مرے معبود کرشمہ تیرا تیری عظمت، تری رفعت، تری تقدیس لکھوں کیسے ممکن ہے ملے گر نہ سہارا تیرا ساری خلقت پہ خدایا ہے حکومت تیری شرکت غیر کہاں صرف ہے قبضہ تیرا شرق سے غرب تلک […]