کتنا بلند پایہ ہے دربارِ مصطفےٰ
’’روح الامیں ہیں غاشیہ بردارِ مصطفےٰ‘‘ دلکش ہیں ، دل پذیر ہیں اطوارِ مصطفےٰ قرآں کا ترجمان ہے کردارِ مصطفےٰ جان قمر ہے تابش رخسارِ مصطفےٰ عنبر فشاں ہیں گیسوئے خمدارِ مصطفےٰ نکلے سفر کو ، تھم گیا کونین کا نظام کیا اہتمام ہے پئے دیدارِ مصطفےٰ مہتاب و آفتاب ، ستاروں کی شکل میں […]