ایک ہی خواب کو آنکھوں میں سجا رکھا ہے

سر کو خاکِ در اقدس پہ جھکا رکھا ہے قابلِ رشک ہے وہ شخص بھری دنیا میں میرے آقا نے جسے اپنا بنا رکھا ہے کیوں نہ رحمت کے فرشتے کریں رحمت مجھ پر آپ کا نام جو ہونٹوں پہ سجا رکھا ہے جس نے سرکار کی الفت کو بسایا دل میں ہم نے پلکوں […]

حسرتِ دل ہے مدینے کی بہاریں دیکھوں

اور پھر نور میں ڈوبی ہوئی راتیں دیکھوں نقشہء خلدِ بریں ہے وہ مدینے کی گلی آپ کی راہگزر ، آپ کی راہیں دیکھوں چھائی رہتی ہیں جو طیبہ کے سبب عالم پر آپ کے روضے پہ رحمت کی گھٹائیں دیکھوں آپ کے عشق میں بے تاب ہوا جاتا ہوں آپ کچھ کیجئے پُرکیف فضائیں […]

بگڑی ہوئی قسمت کو سرکار بناتے ہیں

جن کو نہ کوئی پوچھے اُن سے بھی نبھاتے ہیں چاہیں تو وہ قدموں میں طیبہ میں بلاتے ہیں چاہیں تو وہ خوابوں میں دیدار کراتے ہیں ہر اک پہ کرم کے وہ انبار لٹاتے ہیں دکھ درد کے ماروں کے یاور ہیں نبی سرور غم خوار زمانے کے جگ داتا ہیں وہ رہبر ہر […]

زمین و آسماں روشن ہوئے ہیں اُن کی طلعت سے

کِھلے رشد و ہدایت کے چمن اُن کی عنایت سے اُنہی کا فیض ہے کہ زندگی نے زندگی پائی شرف حاصل ہوئے انسانیت کو اُن کی نسبت سے نسب میں اور حسب میں وہ ہیں اعلیٰ رفعتوں والے کوئی اونچا نہیں ہے خلق میں آقا کی رفعت سے اُنہی سے غم کدے میں رونقیں آئیں […]

آپ کا جود و کرم سب پہ نرالا آقا

خیر پاتا ہے سدا مانگنے والا آقا آپ نے بھٹکے ہوئے کو بھی عطا کی منزل آپ نے گرتے ہوؤں کو بھی سنبھالا آقا آپ آئے تو زمیں پر بھی ہوا ہر جانب آپ کے نور کے جلوؤں سے اُجالا آقا آپ کا ذکر شہا! ساری کتابوں میں ہوا سب صحیفوں میں خدا کے ہے […]

میرے خدا کا مجھ پہ یہ احسان ہو گیا

میں خواب میں مدینے کا مہمان ہو گیا لب پر درودِ پاک کے نغمات آئے تو دل کے سکون کا مرے سامان ہو گیا تھاما ہے جس نے عشق سے دامانِ مصطفی کامل ترین وہ بڑا انسان ہو گیا دوزخ کی آگ اُس کو بھلا کیا جلائے گی جو شخص اُن کے نام پہ قربان […]

حضور آپ کو پانے کی آرزو ہے مجھے

حضور طیبہ میں آنے کی آرزو ہے مجھے حضور جسم کے اندر بہت اندھیرا ہے چراغِ عشق جلانے کی آرزو ہے مجھے حضور غم ہیں کئی اور جان جوکھم میں کروں کیا رنج مٹانے کی آرزو ہے مجھے حضور اپنے پرائے تمام دشمن ہیں سبھی کو اپنا بنانے کی آرزو ہے مجھے حضور علم کی […]

اسوئہ کامل کے مظہر آپ ہیں شاہِ رسل

امن کے اعلیٰ پیمبر آپ ہیں شاہِ رسل بزمِ گیتی کی سبھی یہ رونقیں ہیں آپ سے روشنیء ماہ و اختر آپ ہیں شاہِ رسل چارہ کار و چارہ ساز و چارہ گر ، والیء کُل مہربان و بندہ پرور آپ ہیں شاہِ رسل جن کے باعث عالمِ ہستی کا قائم ہے وجود وہ حبیبِ […]

جہاں ، جہاں بھی نبی کی ثنا کی بات چلی

وہاں ، وہاں پہ خدا کی عطا کی بات چلی دل و نگاہ کے اجڑے چمن بھی کِھل اُٹھے بہارِ خلد نشاں جب صبا کی بات چلی میرے لبوں پہ درود و سلام جاری ہوا نبی کے ساتھ جب آلِ عبا کی بات چلی مرے نبی کی شفاعت سے میری بات بنی بروزِ حشر میری […]

توفیقِ الٰہی سے مستانہ ہوں مستانہ

سرکار کے جلوؤں کا دیوانہ ہوں دیوانہ میرے بھی گھرانے پر انوار کی بارش ہے یہ آپ کی آقا جی! ہے چشمِ کریمانہ سرکار کی آمد سے آباد ہوا عالم ورنہ تو یہ عالم تھا ویرانہ ہی ویرانہ سلطانِ مدینہ کا ہے مجھ پہ کرم یارو! نعتوں کا سخن تب ہی بخشا گیا شاہانہ اے […]