رنج و آلام دور رہتے ہیں
مجھ پہ طاری سرور رہتے ہیں ہے یقیں دل حرا ہے یا طیبہ جب سے دل میں حضور رہتے ہیں اُن کی چشمِ کرم کا صدقہ ہے علم ہے ، باشعور رہتے ہیں جب سے ہونٹوں پہ اُن کا نام آیا غم نہیں ہیں ، سرور رہتے ہیں جو دوانے ہیں شاہِ بطحا کے راحتوں […]