رنج و آلام دور رہتے ہیں

مجھ پہ طاری سرور رہتے ہیں ہے یقیں دل حرا ہے یا طیبہ جب سے دل میں حضور رہتے ہیں اُن کی چشمِ کرم کا صدقہ ہے علم ہے ، باشعور رہتے ہیں جب سے ہونٹوں پہ اُن کا نام آیا غم نہیں ہیں ، سرور رہتے ہیں جو دوانے ہیں شاہِ بطحا کے راحتوں […]

رحمتوں کے اشارے حضور آپ ہیں

بحرِ حق کے کنارے حضور آپ ہیں آپ کی زندگی مشعلِ راہ ہے بندگی کے نظارے حضور آپ ہیں آپ سا کوئی دیکھا نہیں ہے حسیں خُلق میں سب سے پیارے حضور آپ ہیں حضرتِ آمنہ کے ہیں نورِ نظر سعدیہؓ کے دُلارے حضور آپ ہیں سرتاپا معجزہ ، معجزہ ہر ادا رب نے ایسے […]

لبوں پہ جاری درود و سلام ہو جائے

جہاں بھی ذکرِ شہِ ذی مقام ہو جائے مرے عروج کو بس اتنی بات کافی ہے کہ میرا اُن کے گداؤں میں نام ہو جائے تمام عمر نبی کے قصیدے پڑھتا رہوں الٰہی! مجھ پہ بھی وہ فیض عام ہو جائے کبھی نصیب میں ایسی بھی شام آ جائے نبی کے در پہ یہ حاضر […]

حسرتِ دل ہے اُن کا حرم سامنے

سبز گنبد رہے دم ، بدم سامنے زندگی کا سفر یونہی چلتا رہے پاؤں اُن کا کرم ہر قدم سامنے محفلِ نعت ہو اور لب پہ ثنا صدرِ محفل ہوں شاہِ اُمم سامنے اس لیے مٹ گیا خوفِ روزِ جزا میرے سرکار ہیں ہمہ دم سامنے آپ کی شان و عظمت کو تکتے ہوئے سر […]

ماورائے عقلِ انساں شان و عظمت آپ کی

پھر بھلا کیسے بیاں ہو مجھ سے مدحت آپ کی آپ کی ذاتِ مقدس نور کے پردوں میں ہے ایک رب ہی جانتا ہے بس حقیقت آپ کی آج بھی کافی ہے انساں کی ہدایت کے لیے شُہرئہ آفاق ہے کامل شریعت آپ کی آپ ہیں مالک خدا کی کُل خدائی کے حضور کیوں نہ […]

ادب سے جو بھی مدینے میں سر جھکاتے ہیں

میرا یقیں ہے خدا سے مراد پاتے ہیں بہشت اُن کے مقدر پہ ناز کرتی ہے جو خوش نصیب مدینے بلائے جاتے ہیں امیر ، شاہ و گدا ہر گھڑی زمانے میں نبی کے خوانِ کرم سے ہی ٹکڑے کھاتے ہیں بلائے اُن کو جو رو کر مدد کو آتے ہیں اسیرِ رنج و بلا […]

مدحتِ شاہِ دو عالم کا ثمر کیا کہنے!

مجھ پہ اللہ کی رحمت کا اثر کیا کہنے! پوچھ لو زائرِ طیبہ سے بہت پیارا ہے ساری دنیا سے مدینے کا سفر کیا کہنے! آپ کی جشنِ ولادت کی خوشی میں آقا رب نے بخشے سبھی ماؤں کو پسر کیا کہنے! ساری دنیا میں کہیں اور نہیں ہے بے شک خلد سے بڑھ کے […]

عالی شاں آپ سا نہیں دیکھا

مہرباں آپ سا نہیں دیکھا گو کہ جلوے ہیں لاکھ پردوں میں قربِ جاں آپ سا نہیں دیکھا سارے عالم کو روشنی بخشی ضوفشاں آپ سا نہیں دیکھا شبِ معراج عرشِ اعظم کا میہماں آپ سا نہیں دیکھا عاصیوں کو سنبھالنے والا نگہباں آپ سا نہیں دیکھا نعمتیں بے حساب بٹتی ہیں آستاں آپ سا […]

آسماں سے نور کی برسات ہے

کس قدر پُر نور بزمِ نعت ہے ہر دلِ صادق میں یادِ مصطفی ہر لبِ صادق پہ اُن کی بات ہے آنے والے ہیں محمد مصطفی وجد میں محفل ہے ، ہر اک ذات ہے چاند ، تاروں میں عجب ہے دلکشی اللہ ، اللہ کیا سہانی رات ہے دامنِ دل لے کے آ جاؤ […]

رنج و الم سے دُور بلا لیجئے حضور

قربِ دیارِ نُور بلا لیجئے حضور آنکھوں میں خواب طیبہ کے دل میں ہیں حسرتیں کچھ کیجیئے حضور بلا لیجئے حضور گو لائقِ دیار نہیں پھر بھی میرے شاہ اک بار تو ضرور بلا لیجئے حضور میں نے سنا ہے نور کی برسات ہوتی ہے طیبہ میں ہے سُرور بلا لیجئے حضور دنیا کے ظلم […]