ہے زمیں آسماں میں اللہ ہو
کو بہ کو کل جہاں میں اللہ ہو غیر کو دور کر کے پڑھتا رہ دل کے خالی مکاں میں اللہ ہو پھر ہی کامل ہے تیرا ایماں جب ہو حقیقت گماں میں اللہ ہو گونج ہر سو ہے دم بدم اس کی پورے ارض و سماں میں اللہ ہو گریہءِ ظاہری ہے رب کے […]
معلیٰ
کو بہ کو کل جہاں میں اللہ ہو غیر کو دور کر کے پڑھتا رہ دل کے خالی مکاں میں اللہ ہو پھر ہی کامل ہے تیرا ایماں جب ہو حقیقت گماں میں اللہ ہو گونج ہر سو ہے دم بدم اس کی پورے ارض و سماں میں اللہ ہو گریہءِ ظاہری ہے رب کے […]
اور اس دنیا پہ ہو جائے جمالِ پیروی ظاہر سلوک اخلاص پر مبنی ہو جب ہر اک مسلماں کا تو ایماں کی طرف دوڑے زمانے بھر کا ہر کافر عمل کا بیج بویا جائے جب کشتِ عقیدت میں تو کیسے رہ سکے کوئی زمینِ شور بھی عاقر مرے آقا کی سیرت ہی دلوں پرحکمراں ٹھہرے […]
حیات بخشی ہے اُس فضا میں، اُسی سے انساں لگائے دل کو تجلیِ عہدِ شاہ طیبہ کی بات روشن کریں فضائیں پھر اس کے بعد اور کیوں کسی عہد کا فسانہ سنائے دل کو جو اُن فضاؤں سے کٹ گئے ہیں وہ نام تک اپنا کھو چکے ہیں بھلا ہو نظَّارۂ مسلسل کا جس میں […]
مطلوبِ خلق، رحمتِ دَارین ہے عظیم کوئی نہیں نبی کے سوا جس کو کہہ سکیں ہستی سما و ارض کے مابین ہے عظیم آئے رسول دن میں بہاریں سما گئیں سوئے فلک چلے تو کُھلا رَین ہے عظیم شہرِ نبی سے ہو کے جو آئے وہ کہہ اُٹھے دربار ہے عظم وہاں چین ہے عظیم […]
صد شکر چلا آیا میں نعت نگاروں میں جس روز سے دیکھا ہے آنکھوں نے دیار اُن کا اب صبح و مسا گُم ہیں طیبہ کے نظاروں میں سرکار کرم کیجے بے حال ہوئی اُمت یاں دین کی سچائی گُم ہو گئی غاروں میں بوبکرؓ ہوں، عثماںؓ ہوں، فاروقؓ کہ حیدرؓ ہوں ہم فرق نہیں […]
مدحت کی سوغات مسلسل پھیلے گی باطل جس پیغام سے خائف ہوتا ہے اس کی ہر اک بات مسلسل پھیلے گی آقا کی سیرت کو جب اپناؤ گے رحمت کی برسات مسلسل پھیلے گی جب تک دین سے دور رہے گی یہ اُمت گمراہی کی رات مسلسل پھیلے گی شیطانوں کی راہ چلیں گے جب […]
کوئی بھی قرب سے مسرور ہو نہیں سکتا وہ جس میں حبِّ محمد کی شمع روشن ہو وہ دل لحد میں بھی بے نور ہو نہیں سکتا سبق یہ عصرِ رواں سے ملا، کوئی سلطاں ولی کی طرح سے مشہور ہو نہیں سکتا مئے یقیں کا کوئی جرعہ پی کے دیکھ ذرا یہ َنشَّہ وہ […]
اسی کی چاہ سے معمور دل کی دھڑکن ہے اسی کے حسن کا پرتو ہے دل کے چار طرف خوشا کہ کُلبۂ دل میں بھی ایک روزن ہے میں میم سوچ کے اک دائرہ بناتا ہوں وہ دائرہ مرے گھر کا حسین آنگن ہے ندامتیں ہیں عمل پر مگر نہیں مایوس شفیعِ روزِ جزا سے […]
اُسوۂ پاک میں ڈھل جاؤں فنا سے پہلے رنگ اپناؤں محمد کی غلامی کے سبھی رب کی حاصل ہو رِضا مجھ کو قضا سے پہلے میں نے سمجھا ہے کہ ہے کیا یہ جہاد اور قتال دعوتِ دین ضروری ہے وَغا سے پہلے دین، لفظوں سے عمل تک جو نہ ہو نور فشاں پھر تو […]
سنور گیا ہے، نکھر گیا ہے، کلام میرا یقین ہے روزِ حشر بھی آ ہی جائے گا اب مدیح گویانِ شاہِ طیبہ میں نام میرا نگاہِ لطف و کرم پڑی جب بھی شاہِ دیں کی سدھر ہی جائے گا زندگی کا نظام میرا حروفِ مدحت کی تازگی سے یہ لگ رہا ہے کہ لوحِ ایَّام […]