بچھڑ کے طیبہ سے دل کی شگفتگی نہ رہی

وہاں سے آئے تو اُمِّیدِ زندگی نہ رہی وہاں خیال بھی ضو ریز تھا ستارہ صفت یہاں بہار کے موسم میں دلکشی نہ رہی کرم کے پھول سمیٹے وہاں تو ہر لمحہ بنے جو پھول یہاں ایسی اک کلی نہ رہی وہ عہد جس میں درخشاں تھیں دین کی قدریں ہوا نگاہ سے اوجھل تو […]

خدمت گزارِ نعتِ رسولِ کریم ہوں

صد شکر! راہروئے رہِ مستقیم ہوں دیکھا ہے جب سے سَیِّدِ کونین کا دیار میں عافیت پسند، اسی میں مقیم ہوں احساس سے پیام کی ترسیل ہو گئی احسان مند کب ترا بادِ نسیم ہوں؟ پہلے تو فاصلے تھے بہت، لیکن اب نہیں باشندگانِ طیبہ کا میں اب ندیم ہوں کیسی سخن میں آئی ہے […]

نری بدن کی ضرورت، سخن وری ہی نہیں

ہے سعیٔ حرف مگر اس میں روشنی ہی نہیں وہ جس نے شعر و سخن کو بدن پہ اوڑھ لیا اسے حروف کی عظمت کی آگہی ہی نہیں نِہالِ فکر کو آب و ہوائے طیبہ میں وہ تازگی ہے مُیسر جو پہلے تھی ہی نہیں حروف مدح کے لکھ کر ہوا ہے یہ معلوم سخن […]

کیفیَّتِ حضوری و پیشی عجیب تھی

آقا نے میرے دل کی ہر اک اَن کہی سنی طیبہ سے واپسی کا میں احوال کیا کہوں مجھ میں تو زندگی کی رمق ہی نہیں رہی جاتے ہوئے شگفتہ مزاجی تھی اوج پر اب لوٹتے ہوئے تو ہے جاں پر بنی ہوئی طیبہ سے واپسی کا وہ منظر عجیب تھا دیوار و در سے […]

اُن کی دہلیز پہ سر جب بھی کیا خم ہم نے

پا لیا روح کے ہر زخم کا مرہم ہم نے دل کی تسکین چھِنی، عزت و ناموس لُٹی رشتۂ زیست کیا دین سے جب کم ہم نے جذبۂ عشقِ نبی روشن و رخشاں تھا کبھی روشنی اس کی بھی کر ڈالی ہے مَدَّھم ہم نے بھول بیٹھے ہیں اُخوت کا ہر اک درس بھی ہم […]

نکل رہی ہے آہ پھریہ قلبِ بے قرار سے

ملال ہے کہ دور ہوں حضور کے دیار سے حضور کے دیار سے میں دور ہوں توکیا ہوا کہ دل کا سلسلہ تو جڑ چکا ہے اک بہار سے بہار جس کی رونقیں مدینۃ النبی میں ہیں ہوائیں اس کی آرہی ہیں ساگروں کے پار سے ملامتوں کے درمیاں ہے دل بھی اس خیال پر […]

شاہ کے دربار میں فیضان کی بارش ہوئی

عاصیوں پر بے طرح احسان کی بارش ہوئی جب طبیعت پر َتکَدُّرْ کا ذرا سایہ پڑا انشراحِ صدر کے سامان کی بارش ہوئی مدح کے اشعار لکھنے کی سعادت بھی ملی حرف کی تکریم کے عرفان کی بارش ہوئی شاہِ طیبہ کی نگاہِ ناز کا صدقہ ملا نور و نکہت کی نرالی شان کی بارش […]

جھلکتی ہے حبِ نبی جو بیاں سے

وہ ظاہر بھی ہو کچھ عمل کی زباں سے محبانِ خیرالبشر یہ سمجھ لیں گزرنا ہے ان کو کڑے امتحاں سے نہیں سیج پھولوں کی کچھ دینداری مسلماں نے یہ راز جانا اذاں سے میں رزقِ ثنا مانگتا ہوں ہمیشہ طفیلِ نبی سب کے روزی رساں سے مجھے نعت کے حرف ملتے ہیں اکثر گزر […]

اے کاش حیات آپ کے قدموں میں گزر جائے

قطرہ مری ہستی کا بھی دریا میں اُتر جائے نکلے مرا دم روضۂ انور کے مقابل مٹی بھی مری راہِ مدینہ میں بکھر جائے اے کاش کبھی خواب میں دیکھوں رخِ انور دیدارِ نبی سے مری قسمت بھی سنور جائے بس جائے مری روح میں عشقِ شہِ والا ساغر دلِ مضطر کا اسی نور سے […]