بچھڑ کے طیبہ سے دل کی شگفتگی نہ رہی
وہاں سے آئے تو اُمِّیدِ زندگی نہ رہی وہاں خیال بھی ضو ریز تھا ستارہ صفت یہاں بہار کے موسم میں دلکشی نہ رہی کرم کے پھول سمیٹے وہاں تو ہر لمحہ بنے جو پھول یہاں ایسی اک کلی نہ رہی وہ عہد جس میں درخشاں تھیں دین کی قدریں ہوا نگاہ سے اوجھل تو […]