جمال و حسنِ رسالت مآب دیکھتے ہیں

جو دل کی آنکھوں سے اُم الکتاب دیکھتے ہیں لِقائے روئے مبارک کا خواب دیکھتے ہیں حضور ! ہم بھی بصد اضطراب دیکھتے ہیں اگرچہ ہجر کے کانٹوں سے زخم زخم ہے دل بچشمِ روح، حرم کے گلاب دیکھتے ہیں خوشا کہ آنکھوں میں اس طرح بس گیا طیبہ بہر نظر بَلَدِ لاجواب دیکھتے ہیں […]

زباں پہ حمد الٰہی ہے پھر بھی حال ہے یہ

کہ خوفِ مرگ نہ خوفِ لحد نہ شرمِ گناہ وہ چوستے ہیں لہو آپ ہی رعایا کا نہیں یہ خوف کہ لگ جائے گی کسی کی آہ لہو لہو یہ کریں آپ اپنے چہروں کو انہیں الٰہ کی طاقت کا گر یقیں ہو جائے ہر اک ستم سے یہ فی الفور باز آجائیں حیات ان […]

ہجر میں سوزِ دل تو ہے خیرِ انام کے لیے

دیکھیے کب ہو حاضری در پہ سلام کے لیے اُسوۂ شاہِ دیں کا ہو دل پہ طلوع آفتاب تاکہ شفق ٹھہر سکے زیست کی شام کے لیے ان کا پیام جزوِ جاں ایسے بنایئے کہ پھر مژدۂ جاں فزا ملے، عیشِ دوام کے لیے اہلِ جنوں بھی مصلحت کوش ہوئے عجیب ہے! برق و شرار […]

تڑپ رہے ہیں یہاں ہزاروں

پہنچ رہے ہیں وہاں ہزاروں عجیب در ہے کہ جس کے زائر نِہاں ہزاروں عیاں ہزاروں غلام تھے سرفروش ان کے جو لکھ گئے داستاں ہزاروں قلوب میں عشقِ احمدی کے نجوم ہیں ضو فشاں ہزاروں رواں دواں ہیں ہر ایک جانب یقین کے کارواں ہزاروں عزیزؔ تم نعت کیا کہو گے ہیں ان کے […]

ہر سے مکرم ہر سے اعلیٰ

دو عالم کا ماوا و مولا وہ ممدوح کلام اللہ کا وہ طٰس وہی ہے طہٰ مدحِ رسول ملی ہے ہم کو اس کی مدد سے علم ہے مہکا ہر اک دور کا والی وہ ہے ہر اک دور کا ہے وہ سہارا ہر اک درد کا ہے وہ درماں اس کی عطا ہے لمحہ […]

ہے رخشِ سخن مدحتِ آقا کے سفر میں

صد شکر کہ ہے روح، بہاروں کے اثر میں طیبہ کا سفر باعثِ شادابیٔ دل تھا عُشاق کو اب چین مُیَّسر نہیں گھر میں وہ پیروِ سرکار کبھی ہو نہیں سکتا جو ڈھونڈتا پھرتا ہے سکوں لعل و گہر میں وہ عشق جو پہنچائے درِ شاہِ ہدیٰ تک تنویر اسی کی ہو مرے شام و […]

خرد کی تیرہ شبی کی اگر سحر ہو جائے

تو روح عشقِ محمد سے معتبر ہو جائے یقیں کے ساتھ اٹھیں ہاتھ جب دعا کے لیے قفس کی آہنی دیوار میں بھی در ہو جائے خجل ہو قوم عمل پر تو مہربان ہو رَبّ ہر آنکھ فرطِ ندامت سے خوں میں تر ہو جائے لہک لہک کے جو آقا کا نام لیتے ہیں اب […]

نالۂ درد مرا زود اثر ہو جائے

کاش آقا کی مری سمت نظر ہو جائے ہجرِ طیبہ میں گریں آنکھ سے جتنے آنسو کرمِ شاہ سے ہر ایک گُہر ہو جائے! خواب دیکھوں تو مدینے کی زمیں کے دیکھوں دل بھی طیبہ کی کوئی راہ گزر ہو جائے! وہ جو چاہیں تو یہ اِدبار کی گھڑیاں ٹل جائیں چند لمحوں میں مری […]

شمیمِ ذوقِ عمل مدتوں سے آئی نہیں

نمودِ عشق ہمالہ، خلوص رائی نہیں تڑپ رہا ہے یہ دل حاضری کو مدت سے پہنچ کے روضے پہ رُودادِ غم سنائی نہیں مجھے نصیب نہیں آفتاب کا پر تو شبِ سیاہ میں لمعات کی رسائی نہیں ہم اپنا حال بدلنے کا عزم ہار گئے اگرچہ کون سی ذلت ہے جو اُٹھائی نہیں بجا کے […]