قائم ہو جب بھی بزم حساب و کتاب کی
میں شان دیکھ پاؤں رسالت مآب کی! ہاں میں بھی سر جھکائے کھڑا تھا حضورِ شاہ ! لگتا ہے یوں کہ جیسے یہ باتیں ہوں خواب کی! خوں رنگ ہو گئی ہے حضوری کی آرزو! شاید اسے نصیب ہو صورت گلاب کی! ایماں کے ساتھ جس نے عمل سے کیا گریز اس نے تو اپنی […]