بے چین ہوں مدت سے مجھے چین عطا ہو

بس ایک جھلک سیدِ کونین عطا ہو اے بحرِ عطا بحرِ کرم بحرِ عنایت دو بوند مجھے صدقہء حسنینؓ عطا ہو اک بار ہو پھر پیشِ نظر گنبدِ خضریٰ اک بار زیارت شہِ حرمین عطا ہو دُھل جائے سیاہی مرے اس قلبِ سیہ کی اشکوں کا سمندر مجھے فی العین عطا ہو گھیرا ہے اندھیروں […]

حق ادا نعت کا اے راحتِ جاں کیسے ہو

کیسے ممکن ہے یہ اے جانِ جہاں کیسے ہو نطق ہے عاجز و لاچار زباں لرزیدہ یا نبی آپ کی توصیف بیاں کیسے ہو جب تلک دل پہ نہ اُتریں تری یادوں کے قمر ظلمتِ شب پہ اُجالوں کا گماں کیسے ہو جن کے زخموں پہ لگا اُن کا لعابِ شیریں اُن کے زخموں کا […]

جن و انساں اور قدسی آپ کے مشتاق ہیں

آپ ہیں مطلوبِ عالم، راحتِ عشاق ہیں ہو نہیں سکتے رقم اوصافِ حسنہ بالیقیں آپ ہیں خیر الوریٰ، گنجینہء اخلاق ہیں آپ ہیں کونین میں سب سے حسیں یا سیدی آیتِ ’’فی احسنِ تقویم‘‘ کے مصداق ہیں خالقِ ارض و سماء وصافِ اکبر آپ کا آپ کے نغمہ سرا قرآن کے اوراق ہیں جز نہیں […]

جبینِ شوق بلاوے کے انتظار میں ہے

مری حضوری ترے دستِ اختیار میں ہے کروڑوں چاند ستارے ملا کے ہو نہ سکے جو رنگ و نور مدینے کے ریگزار میں ہے ہمارا جسم ہے ریگِ عجم سے آلودہ ہماری رُوح مگر آپ کے دیار میں ہے جسے تلاش ہے مدت سے تیری چوکھٹ کی وہ ایک سجدہ مری چشمِ اشکبار میں ہے […]

اے جود و عطا ریز

اے مشک و عطر بیز تو جانِ گلستان اے غنچہء نوخیز اک نظرِ کرم سے صحرا ہوئے زرخیز دو بوند ادھر بھی اے ابرِ کرم بیز اقوال ہیں تیرے کونین میں ضوریز کوثر کا عطا ہو پیمانہء لبریز طیبہ میں پہنچ کر دھڑکن بھی ہوئی تیز مدحت تری ارفع اشفاقؔ نوآمیز

ملی ہے محبت حضور آپ کی

بڑی ہے عنایت حضور آپ کی سبھی کے لبوں پر ہے نام آپ کا سبھی کو ہے چاہت حضور آپ کی وہی ہے معزز ہمارے لیے جو کرتا ہے عزت حضور آپ کی دُعا جب بھی مانگی ہے معبود سے تو مانگی ہے قربت حضور آپ کی خدا کے سوا کوئی سمجھا نہیں ہے مخفی […]

یا نبی صلِ علیٰ وردِ زباں ہو جائے

وقفِ مدحت مرا اندازِ بیاں ہو جائے حشر کے روز کڑی دھوپ میں میرے آقا آپ کا قرب مری جائے اماں ہو جائے تھام لوں آپ کی چوکھٹ کو بصد عجز و نیاز آنکھ میں اشک ہوں دل گریہ کناں ہو جائے جسم و جاں ایسے فدا ہوں ترے سنگِ در پر جسم ہو خاک […]

مصطفیٰ کے کوچے میں نور کے بسیرے ہیں

صبح و شام روضے پر قدسیوں کے پھیرے ہیں ہر مقام روشن ہے صبح و شام روشن ہے شش جہات طیبہ میں روشنی کے گھیرے ہیں احتیاط سے چلنا دھیرے سے قدم رکھنا ہر قدم پہ بطحا میں نوریوں کے ڈیرے ہیں اس دیار میں دیکھوں کوئے یار میں دیکھوں باقی زندگانی میں جس قدر […]

مری نظر نے ترے سنگِ در کو چوما ہے

وہ مشتِ خاک ہوں جس نے قمر کو چوما ہے زمانہ چوم رہا ہے بڑی عقیدت سے لبِ حبیب نے جب سے حجر کو چوما ہے جو آنکھ عشقِ محمد میں اشکبار ہوئی ملائکہ نے اُسی چشمِ تر کو چوما ہے درُود اول و آخر پڑھا گیا جن کے اُنہی دُعاؤں نے بابِ اثر کو […]

ہیں آپ سرورِ کونین یارسول اللہ

عطا ہو صدقہء حسنینؓ یارسول اللہ نہ تاج و تخت کی خواہش ، نہ مال و زر کی طلب ہو سر پہ آپ کی نعلین یارسول اللہ ہر ایک اس کا ہے شاہد کہ غم کے ماروں کو ملا ہے آپ سے سکھ چین یارسول اللہ مجھے دکھائیے طیبہ کے پھر گلی کوچے بلائیے مجھے […]