اے راحتِ جاں باعثِ تسکین محمد

اے شاہِ زمن شاہِ سلاطین محمد بے کس کو ملا آپ کی چوکھٹ کا سہارا اے گنجِ کرم حامیِ مسکین محمد ہیں دونوں جہاں آپ کے انوار سے روشن کونین کی آرائش و تزئین محمد قرآن میں ہے آپ کا اللہ ثناء خواں قرآن میں ہے طہٰ و یٰسین محمد ہوں کس سے بیاں آپ […]

سید المرسلیں سلامُ علیک

رحمت العالمیں سلامُ علیک نورِ عرشِ بریں سلامُ علیک لا مکاں کے مکیں سلامُ علیک مجھ پہ بھی ہو نظر عنایت کی شافعِ مذنبیں سلامُ علیک آپ کے دم سے ہیں زمین و زماں روحِ دنیا و دیں سلام علیک حشر کے روز یا رسول اللہ مجھ کو رکھنا قریں سلامُ علیک سارے انسان خوبصورت […]

اے شہِ کون و مکاں تحفہء یزدانی ہو

حسنِ لاریب ہو بے سایہ ہو لاثانی ہو کعبؓ و حسانؓ کی ہمراہی مقدر ٹھہرے لوا الحمد کے سائے میں ثناء خوانی ہو حاصلِ کن فیکون اور ہو مرکز ، محور شاہِ کونین ہو کونین کی تابانی ہو آپ ہی رکھتے ہیں ہر زخمِ جگر پر مرہم آپ سے کہتے ہیں کوئی بھی پریشانی ہو […]

جتنا علم و شعور ملتا ہے

آپ سے آنحضور ملتا ہے ذکرِ محبوب کر محبت سے! دیکھ! کتنا سرور ملتا ہے مانگنا شرط بھی نہیں لیکن اُن کے در سے ضرور ملتا ہے ماہ و خورشید کو ستاروں کو میرے آقا سے نور ملتا ہے جو بھی اشفاقؔ اُن کے در سے ملے بہ عطائے غفور ملتا ہے

بُلائیں جب تمہیں شاہِ اُمَم مدینے میں

جبینِ شوق ہو خم ،آنکھ نم مدینے میں ہو گفتگو میں سلیقہ ، زباں ہو شائستہ درُودِ پاک رہے دَم بہ دَم مدینے میں قدم قدم پہ فرشتوں نے پَر بچھائے ہیں ذرا سنبھال کے رکھنا قدم مدینے میں تری طلب سے زیادہ تجھے نوازیں گے اُمڈ رہے ہیں بحُورِ کرم مدینے میں زمیں پہ […]

جھکا کے اُن کی عقیدت میں سر مدینے چلو

برہنہ پا چلو با چشمِ تر مدینے چلو وہ جانتے ہیں ہر اک دُکھ مٹا بھی سکتے ہیں وہیں مقیم ہیں وہ چارہ گر مدینے چلو صدائے صَلِ عَلٰے ہو تمہارا زادِ سفر ردائے صَلِ عَلٰے اوڑھ کر مدینے چلو ہوائیں چومنے آئیں گی دست و نقشِ قدم فرشتے ہونگے سدا ہمسفر مدینے چلو نہیں […]

یہ میری آنکھ ہوئی اشکبار تیرے لیے

یہ دل مچلتا رہا بار بار تیرے لیے کسے پکاروں نہیں ماسوا کوئی تیرے مری صدائیں مری ہر پکار تیرے لیے فلک پہ تیرے لیے ہی سجے ہیں ماہ و نجوم گلوں کو دیتی ہے خوشبو بہار تیرے لیے یقیں ہے میری شفاعت کرے گی تیری ذات مرا بھروسہ مرا اعتبار تیرے لیے ہر ایک […]

وہ روشنی ہے علیؓ کی گھر میں فلک سے جو نور بہہ رہا ہے

محبتوں کے کنول کھلے ہیں پہاڑ نفرت کا ڈھہ رہا ہے تمام شب آسماں سے لے کر زمیں تلک ذکرِ شہ رہا ہے عجب چراغاں ہے کہکشاں کا مَلَک مَلَک سے یہ کہہ رہا ہے حسین میرا حسین تیرا حسین سب کا حسین حیدر کا مصطفیٰ کا حسین رب کا خُدا کے پیارے نبی کے […]

حسن و جمالِ روضہء اطہر نظر میں ہے

منظر ابھی تلک وہ برابر نظر میں ہے ظلماتِ گرد و پیش مجھے کیا ڈرائیں گی صد شکر اُن کا رُوئے منور نظر میں ہے میں ہوں سیہ کار مگر روزِ حشر بھی مہر و عطائے شافعِ محشر نظر میں ہے آغاز جس کا حضرتِ حسانؓ سے ہوا وہ کاروانِ شوق مسلسل سفر میں ہے […]

نُورِ مدحت سے مرا قلب منور رکھنا

مدحِ سرکار سے لہجے کو معنبر رکھنا تیرے محبوب کو آقائی ہے زیبا مالک مجھ کو ہر وقت غلامی پہ مقرر رکھنا چند لمحوں کی جدائی بھی اگر ہو لازم فرقتِ سرورِ کونین موخر رکھنا کوئی لمحہ نہ رہے ذکرِ نبی سے خالی جانِ عالم کے تصور سے معطر رکھنا سبز و شاداب رہے یادِ […]