’’محیِ سنت، حامیِ ملّت، مجدّد دین کا ‘‘
گلشنِ عشقِ نبی کا عندلیبِ خوش نوا عاشقِ خیر الورا، وہ رہِ نُما ملتا نہیں ’’پیکرِ رُشد و ہدا احمد رضا ملتا نہیں ‘‘
معلیٰ
گلشنِ عشقِ نبی کا عندلیبِ خوش نوا عاشقِ خیر الورا، وہ رہِ نُما ملتا نہیں ’’پیکرِ رُشد و ہدا احمد رضا ملتا نہیں ‘‘
لو مبارک ہو کہ اب شافعِ محشر آئے جن سے ہر سمت سکوں، لوگو! بپا ہوتا ہے ’’چَین ہی چَین ہے اب جام عطا ہوتا ہے‘‘
فوجِ غم چھائی دہائی آپ کی سوئے ماچشمِ عنایت کیجیے ’’سوختہ جانوں پہ رحمت کیجیے‘‘
میلاد ہونے لگتا ہے دل کے مکان میں صورت کی اُن کے سیرت و کردار کی کہیں ملتی نہیں مثال کسی بھی جہان میں حضرت حلیمہؓ آپ کی گودی کے لعل سا دھرتی پہ تھا نہ کوئی کہیں آسمان میں عشقِ رسولِ ہاشمی کی ہے یہ بھی عطا نعتیں سُنوں تو شہد ٹپکتاہے کان میں […]
درپیش مجھے جب بھی مدینے کا سفر ہوں لگ جائیں مری سوچ کو پر کاش کبھی جو پرواز مری پہلی ہو احمد کا نگر ہو وہ کیف ِ حضوری ہو مجھے طوفِ نظر کا اپنا ہی پتہ ہو ، نہ کسی کی بھی خبر ہو درکار نہیں کچھ بھی مجھے شعر و سخن سے اِک […]
جو کچھ بھی ہے وہ حلقۂ خیرالبشر میں ہے روشن ہے کائنات فقط اُس کی ذات سے وہ نور ہے اُسی کا جو شمس و قمر میں ہے اُس نے سکھائے ہیں ہمیں آدابِ بندگی تہذیب آشنائی یہ اُس کے ثمر میں ہے چھوُ کر میں آؤںگنبدِ خضریٰ کے بام و در یہ ایک خواب […]
میں محدود دماغ کا حامل کب یہ مجھ میں تاب و تواں ہے تو ہے احد اور میںہوں کثرتِ خلق کا جزو اے میرے خالق تیری ذات حقیقت ہے اور میری ہستی ایک گماں ہے
شعر کہتے رہے ، نعت ہوتی رہی سیرتِ مصطفیٰ پر جمی تھی نگہ اور تخیل کی بہتات ہوتی رہی تھے لبوں پر درودوں کے وہ زمزمے نکہتِ گُل کی برسات ہوتی رہی عرش پر بزمِ میلاد رکھی گئی معتبر آپ کی ذات ہوتی رہی جب سے اوڑھا اسیری کے اس شوق کو زندگی مثلِ میقات […]
تذکرہ ہو آپ کی ہی ذات کا صلّیِ علیٰ راستے سارے مدینے کی طرف ہوں گامزن دن کا ہو یا پھر سفر ہو رات کا صلّیِ علیٰ کیا مقامِ مصطفی ہے ؟ جانتا ہے بس خدا علم کس کو آپ کے درجات کا صلّیِ علیٰ یہ سبھی مخلوق دنیا کی ازل سے آج تک کھا […]
سبق پہلا جو بچپن میں پڑھا اللہ الف اللہ فنا ہر شے کی بس تیری بقا اللہ الف اللہ تری جاگیر ہیں ارض و سما اللہ الف اللہ گرج میں بادلوں کی یہ سُنا اللہ الف اللہ خموشی میں ستاروں کی ندا اللہ الف اللہ یہی سبزے پہ شبنم نے لِکھا اللہ الف اللہ ہر […]