اِک بار اُٹھے تھے جو قدم نورِ ہدیٰ کے
رستے ہیں منور ابھی تک غارِ حرا کے زرخیز ہوا دشتِ جہاں اُن کے کرم سے احسان ہیں اُمت پہ فقط اُن کی گھٹا کے ہم بھٹکے ہوئے ذہن کے شاعر ہیں جبھی تو یہ نعت بھی لکھّی ہے وسیلے سے عطا کے رہتی ہے ہمہ وقت مرے ساتھ یہ تسبیح سانسوں میں پرویا ہے […]