وفورِ عشق سے لبریز دل کا دردِ دوراں ہے

وہ والی ہے وہ آقا ہے وہ داتا ہے وہ سلطاں ہے اُنہی کا نام لیوا ہوں فقط اِس اِک حوالے سے قوی بخشش کا امکاں ہے ، مری بخشش کا امکاں ہے عطا ہو نعت کہنے کا سلیقہ مجھ کو بھی آقا مضامیں ہیں،تخیل ہے، تمنائی ہوں عنواں ہے منور آپ کے جلووں سے […]

کلفتِ جاں میں ترے در کی طرف دیکھتا ہوں

مطمئن ہو کے مقدر کی طرف دیکھتا ہوں جب بھی اطراف میں چھایا ہو مرے حبس کوئی چشمِ نم سے ترے پیکر کی طرف دیکھتا ہوں صحنِ مسجد میں کھڑا ہو کے عقیدت سے میں گنبدِ خضریٰ کے منظر کی طرف دیکھتا ہوں میں نے اُس ذات سے امیدِ کرم باندھی ہے اُس کی رحمت […]

کچھ بھی ہوں میں بُرا یا بھلا ہے کرم

زندگی پر مری آپ کا ہے کرم وہ سراپا کرم ، وہ سراپا سخا ظلم سہہ کر بھی جس نے کیا ہے کرم یہ سرِ گنبدِ خضریٰ کیا ہے گھٹا ہر طرف بن کے بادل تنا ہے کرم مشکلوں میں ترا نام جب بھی لیا میری بگڑی بنی ، ہوگیا ہے کرم مرتضیٰؔ آپ کی […]

ہوگی ہلال و بدر کی کیا چاندنی حسیں

ہے بارہویں کے چاند کی جلوہ گری حسیں ہے دم قدم سے آپ کی تابانی کے حضور شمس و مہ و نجوم کی تابندگی حسیں میں نعت کے چراغ جلانے میں تھا مگن ہوتی گئی ہے آپ سے وابستگی حسیں وہ اہتمامِ نعت ہوا خوبخود کہ اب لگنے لگی ہے مجھ کو مری شاعری حسیں […]

ہے گزارش میری ذاتِ کبریا کے سامنے

میں ملوں خود کو درِ صلّیِ علیٰ کے سامنے میں جیوں تو سانس میری اُس نگر کی ہو رہین میں مروں تو روضۂ خیرالوریٰ کے سامنے جس نے ظلمت کو اُجالوں کی بشارت بخش دی اِک دیا روشن رہا سرکش ہوا کے سامنے جس کو تیرا دامنِ رحمت میسر آگیا بے خطر آیا وہ ہر […]

اوجِ صدق و صفا سیّدی مصطفیٰ

سرورِ انبیأ سیّدی مصطفیٰ حق کی منشأ وہی ، حق کا وہ فیصلہ جو ہے تیری رضا سیّدی مصطفیٰ کوئی بھی اُن کے در سے نہ خالی گیا بحرِ جود و سخا سیّدی مصطفیٰ مرتبہ اُن کے جیسا کسی کو ملا؟ مرحبا مصطفیٰ ، سیّدی مصطفیٰ جو بھی اسوہ پہ تیرے چلا ، پاگیا خلد […]

آرہا ہے مری ہر دعا میں اثر

بڑھ رہا ہے مسلسل یہ ذوقِ سفر چشمِ خفتہ کا ہے خوابِ بیدار یہ آنکھ کھولوں مقابل ہو اُن کا نگر کاش مل جائے میری جبیں کو بھی اب میرے آقا کا ، سلطان کا سنگِ در آپ ہیں آسرا عاصیوں کا حضور اس لئے ہے شفاعت پہ سب کی نظر بے سلیقہ ہوں میں […]

جب بھی پہنچا ہوں آقا کے دربار تک

آنکھ کہنے لگی ہو کے سرشار تک محوِ پرواز ہے پھر تخیل مرا پھر سے بڑھنے لگی دل کی رفتار تک قدسیوں نے تراشی ہے روشن لکیر عرش سے روضۂ شاہِ ابرار تک آپ جیسا کوئی تھا نہ ہوگا کہیں ذاتِ بے مثل سیرت سے کردار تک ہو مدینے کی دل میں کسک مرتضیٰؔ یہ […]