جہانِ جود و سخا میں نہیں ہے اس کا بدل

وہ جس کی چشمِ عطا سب کی مشکلات کا حل ہے اُسی کی مدح گری فنِ شاعری کا فروغ وہی ہے شانِ قصیدہ، وہی ہے جانِ غزل اُس آفتابِ نبوت کے نور سے روشن محبتوں کے مظاہر، عقیدتوں کے محل جہان خلقت و بعثت میں اول و آخر اند کا قافلہ سالار، اعتبارِ ازل خوشا […]

صد شکر کہ پھر لب پہ محمد کی ثنا ہے

پھر وردِ زباں صلِ علیٰ، صلِ علیٰ ہے بے مہرئ ايام سے مفلس ہیں تو کیا ہے ہم جس کے بھکاری ہیں وہ دربار بڑا ہے جس ذرۂ ناچیز کو اس در سے ہو نسبت نکہت ميں وہ گل ہے تو لطافت میں صبا ہے ہر صبح ترے ذکر کی خوشبو سے معطر ہر شام […]

شہریارِ جناں آپ ہیں

رحمتِ دو جہاں آپ ہیں کوئی نوری نہ پہنچا وہاں وصل کی شب جہاں آپ ہیں عبد و معبود میں رابطہ آپ ہیں، بے گماں آپ ہیں شہرِ علم و ہنر مصطفیٰ دیدہ در، نکتہ داں آپ ہیں آپ کا حکم، حکمِ خدا حق نما، حق نشان آپ ہیں واقفِ سرِ عرشِ بریں شاہدِ لامکاں […]

ماحول کی تلخیاں بھلا کر

پڑھ اُن پہ درود، فرض ادا کر کر وردِ درود، سر جھکا کر نظارۂ شہرِ مصطفیٰ کر اُس در پہ ادب سے مانگ سب کچھ خاموش لبوں سے التجا کر اب دور سے دیکھتا ہوں گنبد دیکھوں گا کبھی قریب جا کر خالق ترے سب گناہ بخشے تو مدحِ امامِ انبیا کر اللہ سے مانگ، […]

اب اپنی ذندگی اور فن کا مقصد لکھ رہا ہوں میں

بہ صد عجز و عقیدت نعتِ احمد لکھ رہا ہوں میں خدا کے فضل سے اب کارِ مدحت مجھ پہ آساں ہے زہے تقدیر! اوصافِ محمد لکھ رہا ہوں میں خوشا! اظہارِ نسبت کا مرا اپنا طریقہ ہے تمہارا ذکر کرتے تھے اب وجد، لکھ رہا ہوں میں طبیعت کی روانی مصطفیٰ کی خاص رحمت […]

جب کسی غم نے بے قرار کیا

چشمِ رحمت کا انتظار کیا رات گہری تھی، میں اکیلا تھا آپ کا ذکر بار بار کیا تیرے خالق نے تیری صورت میں اپنی قدرت کو آشکار کیا شعر میں آپ کی ثنا لکھی ہم نے اس فن کو باوقار کیا ہر گھڑی، ہر دعا میں یاد رکھا ہم غریبوں سے اتنا پیار کیا آپ […]

تھوڑی ہے عمر، اُن کی ثنا بار بار کر

غفلت شعار! نعتِ نبی اختیار کر سرمایۂ تصورِ طیبہ ملے مجھے اللہ! میرے دل کو بنی کا دیار کر بعد از دعا، حجاب کوئی پل کی بات ہے اے چشمِ بے قرار! ذرا انتظار کر اے چارہ سار! تلخئ ایام تا کجا دستِ دعا اٹھا کے خزاں کو بہار کر رخصت ہو دل سے دولتِ […]

جب ان کے روضۂ اقدس کو بند آنکھوں سے تکتے ہیں

ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ ہم بھی دیکھ سکتے ہیں کرم سرکار کا اک پل میں دوری ختم کرتا ہے نگاہِ منتطر سے ہجر کے پردے سرکتے ہیں مرا ایمان ہے، سرکار کی چشمِ توجہ سے گلستانِ سخن میں نعت کے غنچے چٹکتے ہیں یہ چشمِ نم دعا کرتا ہوں جب اُن کے وسیلے سے […]