دنیا کے ٹھکرائے لوگ

تیرے در پہ آئے لوگ تیرے نام کا ورد کریں دل میں درد بسائے لوگ تیرے ذکر سے کِھل اٹھیں کملائے،مرجھائے لوگ تیرے حُسن کی بات چلی بات نہیں کر پائے لوگ دھوپ سے بچ کر چلتے ہیں تیرے سائے سائے لوگ سب تیرے ہی منگتے ہیں اپنے اور پرائے لوگ

سرورِ کونین، جانِ کائنات

اس طرف بھی اک نگاہِ التفات نعت اصلِ شاعری، اصلِ حیات نعت عرفانِ سخن، عرفانِ ذات زینتِ شہرِ سخن، وہ ایک نام وجہِ تخلیقِ جہاں، وہ ایک ذات آپ کی آمد سے یہ روشن ہوا سب اندھیرے تھے جہاں میں بے ثبات سب ترقی یافتہ اقوام نے آپ سے پایا ہے آئینِ حیات ہم گنہگاروں […]

یہی دستور ہے اہلِ وفا کا

زبان پر ورد ہو صلِ علیٰ کا بس اک لمحہ ملے وہ چشمِ بینا کروں دیدار محبوبِ خدا کا کسی مشکل میں گھبراتا نہیں دل لبوں پر نام ہے مشکل کشا کا سبھی بیمار اچھے ہو رہے ہیں کرشمہ ہے مدینے کی ہوا کا گنہگاروں کی بخشش اور کیا ہے؟ کرم ہے شافعِ روزِ کا […]

بے نوا ہوں مگر ملال نہیں

اشک، محتاجِ عرضِ حال نہیں اے خیالِ رخِ شہِ خوباں تیرے جیسا کوئی خیال نہیں حسنِ صورت میں، حسنِ سیرت میں مصطفیٰ کی کوئی مثال نہیں نقشِ پائے حضور رہبر ہے اب بھٹکنے کا احتمال نہیں دولتِ حُبِ شاہ کے صدقے مفلسی کا مجھے ملال نہیں اُن کی رحمت ہے، میری قسمت میں میرے اعمال […]

ہر شعر میں عیاں ہے محبت حضور کی

جب سے ہوئی ہے چشمِ عنایت حضور کی ہر دور پر محیط رسالت حضور کی ہر دور کا نصاب ہے سیرت حضور کی نبیوں کے پیشوا کی غلامی نصیب ہے نازاں ہے اپنے بخت پہ امت حضور کی دستِ طلب کو دستِ کونین بخش دے دنیا میں بے مثال سخاوت حضور کی کتنے ہی لوگ […]

پہنچے مرا سلام، حضوری نصیب ہو

آئے کوئی پیام، حضوری نصیب ہو اے رحمت تمام، حضوری نصیب ہو حاضر ہو یہ غلام حضوری نصیب ہو میں شہرّ مصطفیٰ میں کہوں نعتِ مصطفیٰ لکھوں وہ پاک نام، حضوری نصیب ہو شاخ سخن پہ موسمِ گُل نا نزول ہو کِھل اٹھے گُل کلام، حضوری نصیب ہو اک ورد زادِ روی بنے، رہنما بنے […]

شوق سے محوِ سفر دیدۂ نم ہو آقا

منزلِ دیدۂ نم صحنِ حرم ہو آقا اپنی امت پہ ذرا چشمِ کرم ہو آقا رحمتِ کل ہو، شہِ عرب و عجم ہو آقا منزلیں خود مرے قدموں سے لپٹنے آئیں رہبرِ شوق ترا نقشِ قدم ہو آقا جب میں سوچوں تو نئے رنگ سے مدحت اترے جب میں لکھوں تو نئی نعت رقم ہو […]

اُن کی چشمِ کرم کے طلبگار ہیں

سر بسر اب تو ہم شوقِ دیدار ہیں یادِ محبوب میں محوِ اذکار ہیں اُن کے عشاق کیسے طرحدار ہیں کم نصیبوں کو دنیا نے ٹھکرا دیا کملی والے مگر سب کے غمخوار ہیں پا شکستہ چلا ہوں میں اُن کی طرف یہ مری خوش نصیبی کے آثار ہیں رحمتِ دو جہاں، رحمتِ دو جہاں […]

بارہا منزلِ طیبہ کا مسافر ہونا

ہو مقدر ترے دربار میں حاضر ہونا انبیا تیری زیارت کی دعا کرتے ہیں شرف ایسا ہے ترے نور کا ناظر ہونا اول الخلق ہے تو، ختم نبوت تجھ پر سب پہ ظاہر ہے ترا اول و آخر ہونا دل کی خواہش ہے حرا غار میں نعتیں کہنا تیری خلوت، ترے ماحول کا زائر ہونا […]

ظلمت میں جو کرن بھی کہیں وجہِ نور ہے

اُس کا اُس آفتاب سے رشتہ ضرور ہے اس گُل کی معرفت ہے گلتساں کی معرفت خوشبو کا اعتراف دلیلِ شعور ہے میرے حضور پاک، سبھی اہلِ بیت پاک ہی خاندانِ نور نجاست سے دور ہے کنکر سمجھ گئے کہ انہیں اختیار ہے منکر سمجھ نہ پائے تو اُس کا قصور ہے الفاظ با وضو […]