خدا کی خاص رحمت اور کرم سے

ہم اہلِ نعت مستثنٰی ہیں غم سے وہ قاسم ہیں خدا کی نعمتوں کے جو چاہو مانگ لو شاہِ امم سے بھٹکتی پھر رہی تھی نسلِ آدم ملی منزل ترے نقشِ قدم سے غلامی کی سند ہم کو ملی ہے جنابِ سیدِ عرب و عجم سے محمد وجہِ تخلیقِ زمانہ وجودستان قائم ان کے دم […]

مجھے کامل یقین ہے، التجاؤں میں اثر ہو گا

میری تقدیر جاگے گی، مدینے کا سفر ہو گا تمہارے شہر میں دنیا کا غم ہو گا نہ عقبیٰ کا نہ جینے میں کوئی الجھن، نہ مر جانے کا ڈر ہو گا یہ معراجِ تمنا ہے کہ اُس شہر تمنا میں کسی روشن گلی کے موڑ پر میرا بھی گھر ہو گا مرا ہر موئے […]

پھیلتا ہی جا رہا ہے سلسلہ حاجات کا

منتظر ہوں سرور کونین کی خیرات کا اک ہجومِ غم ہے آقا قلب شاعر کو محیط جبر بڑھتا جا رہا ہے تلخئ حالات کا دونوں عالم میں نہیں مجھ سا تہی داماں کوئی دونوں عالم میں ہے شہرہ آپ کی خیرات کا نعت کہنے کے لیے ہر وقت اب موزوں لگے کچھ دنوں سے مٹ […]

نعت کہنا مری قسمت کرنا

ختم ہے اُن پہ سخاوت کرنا اور بنائے کا مصرف کیا ہے سبز گنبد کی زیارت کرنا اُن کے قبضے میں خزانے، رب کے اُن کی عادت ہے سخاوت کرنا دور طیبہ سے تڑپنا دل کا ہجر لمحوں میں عبادت کرنا صرف محبوبِ خدا کا منصب نوعِ انساں کی قیادت کرنا سوئے طیبہ ہو اڑانیں […]

انجامِ التجا، شبِ غم کی سحر پہ ہو

الطافِ خاص آج مری چشم تر پہ ہو عشاق سر بلند رہیں کائنات میں خاک درِ رسول کی دستار سر پہ ہو سالار قافلہ ترا نقشِ قدم رہے جتنا سفر ہو اب، وہ تری رہگزر پہ ہو معراجِ آرزو ہے کہ دیکھوں درِ حبیب اک نعت کاش روضۂ خیر البشر پہ ہو نکلے بدن سے […]

یہ عشرہ یہ ماہِ محرم کے دن

بظاہر تو ہے سوگ و ماتم کے دن مگر ان میں تاریکیاں شام کی لیے تھیں ضیا صبحِ اسلام کی یزیدہ حکومت کا دار و مدار تھا باطل پہ دنیا کا آشکار نواسے، نواسوں کے گھر بار کے بہتّر تھے جو سوئے کوفہ چلے جہاں خون آلِ نبی کا بہا زمیں وہ کہلانے لگی کربلا […]

وہ بھی کیا دور تھا

۔1۔ وہ بھی کیا دور تھا ذہن کا آئینہ گرد آلود تھا روحِ انسانیت ہو چکی تھی فنا میکشی تھی ہنر اور زِنا معتبر سر سے تہذیب کے گر چکی تھی رِدا شرم و اخلاص کی مر چکا تھا تمدّن بھی تاریخ کا اور ڈوبی ہوئی تھی رگِ ارتقا حکمراں تھیں جہالت کی تاریکیاں فکر […]

ہم ہیں ہندو پر محبت ہے شہِ ابرار سے

اس لئے ڈرتے نہیں ہم نرگ سے یا نار سے تو نے مانوتا کی رکھ لی آبرو مولا حسینؑ کس کو ہے انکار تیرے اس مہا اُپکار سے ہم تو ہیں پاپی مگر غم خوار ہیں شبیرؑ کے دھوئیں گے ہم پاپ اپنے آنسوؤں کی دھار سے ناز ہے ہم کو کہ ہم بھی شہ […]

وہ حسینؑ ابنِ علیؑ دوشِنبی کا شہسوار

زیبِ آغوشِ رسالت، فاطمہؑ کا گلعذار زورِ بازوئے حسنؑ فرزندِ حیدرؑ با وقار پیکرِ صبر و رضا، محبوبِ کردگار مظہرِ حق و صداقت جلوۂ ایماں حسینؑ وہ امامِ حق پسنداں وہ نبی کا نور العین عظمتِ حق کا پیامی دینِ حق کا پاسباں خلد کا سردارِ اعظم میر بزم مومناں جس نے سینچا اپنے خوں […]

وہ سامنے غنیم کی فوجیں ہیں دجلہ پار

ہیں اس طرف اکیلے حسینؑ اسپ پہ سوار دامن پہ ہے غبار گریباں ہے تار تار کانٹوں پہ جیسے پھول ہو، یوں ہے وہ نامدار آزادؔ! نوکِ خار کی زد پر ہے پھول دیکھ ہاں دیکھ! اِنقلابِ جہاں کا اصول دیکھ