لُو چل رہی ہے نام کو سایہ کہیں نہیں
حدّت وہ ہے کہ وقت کی سانسیں ہیں آتشیں آنکھیں اُٹھا کے دیکھ ذرا اے دل حزیں گردوں تنور ہے کرۂ نار ہے زمیں اک شعلہ زار ہے کہ ہے میدانِ کربلا اک آگ ہے کہ ریگِ بیا بانِ کربلا
معلیٰ
حدّت وہ ہے کہ وقت کی سانسیں ہیں آتشیں آنکھیں اُٹھا کے دیکھ ذرا اے دل حزیں گردوں تنور ہے کرۂ نار ہے زمیں اک شعلہ زار ہے کہ ہے میدانِ کربلا اک آگ ہے کہ ریگِ بیا بانِ کربلا
نبی کے باغ پہ چھائی افسردگی کیا ہے گلے پہ تیرِ ستم کھا کے کر دیا کہ شیر خوار کی شانِ سپہہ گری کیا ہے جھکائے سایۂ شمشیر میں نہ سر کیونکر حسینؑ جانتے تھے حق کی بندگی کیا ہے دکھاتے منزلِ حق کی نہ راہ کیوں سرور وہی تو جانتے تھے طرزِ رہبری کیا […]
یہاں توقیر ہوتی ہے، وہاں توقیر ہوتی ہے چراغ، رہنمائے راہِ حق بنتا ہے ہر ذرہ شہیدوں کی لحد کی خاک پر تنویر ہوتی ہے فنا ان کے لئے کیسی جو حق پر جان دیتے ہیں کہ ان کے خون سے دنیا نئی تعمیر ہوتی ہے ادیبؔ اکثر مناظر کربلا کے دیکھ لیتا ہوں نجات […]
اسے نصیب حقیقی نظر نہیں ہوتی جھکا سے نہ کبھی سر جو ما سوا کے لئے ہے سر بلند اسے فکرِ سر نہیں ہوتی ہوئے نہ ہوتے جو شبیرؑ کربلا میں شہید نظر زمانے کی اسلام پر نہیں ہوتی کبھی کبھی نظر آتی ہے فتح باطل کی خدا گواہ کہ وہ معتبر نہیں ہوتی غمِ […]
خود صانعِ ازل بھی ہے شیدا حسینؑ کا سر دے کے سر پہ لے لیا بارِ تمام دیں یہ حوصلہ، یہ دل، یہ کلیجہ حسینؑ کا اے آرزوؔ ازل سے ہوں تقدیر کا دھنی بندہ ہوں مرتضیٰؑ کا، میں بردا حسینؑ کا
اے سلامی نخلِ ماتم میں ثمر پیدا ہوا جب علیؑ سا بازوئے خیر البشر پیدا ہوا اے سلامی دشمنوں کے دل میں ڈر پیدا ہوا جب کہ آئی شمر کی صورت سکینہؑ کو نظر دیکھتے ہی دل میں اس بچی کے ڈر پیدا ہوا یارو سینچو اشک سے نخلِ غمِ شبیرؑ کو روزِ محشر دیکھ […]
ان کی ذاتِ اقدس ہی ، رحمتِ مجسم ہے عرش پر معظّم ہے ، اور فخرِ عالم ہے یہ شرف ملا کس کو ، فرش کے مکینوں میں قدسیوں کی محفل میں ، ذکر ان کا پیہم ہے مخزنِ تقدس ہے ، چشم پُر حیا اُن کی گیسوئے حسیں اُن کا ، نرم مثلِ ریشم […]
سر جھکاتا ہوں، ترے در پہ چلا آتا ہوں بے یقینی کے اندھیروں میں چراغاں کے لیے شمع مدحت کی جلاتا ہوں، ضیا پاتا ہوں غم نہ کر، شہر محبت سے پیام آئے گا ہجر میں دل کو اسے بات پہ ٹھہرتا ہوں میں گنہگار کہاں، مدحت سرکار کہاں بخت پر ناز ہے، اعمال پہ […]
خدائے قادر و عادل یہ عہدِ نو مزین ہے یقیناً علم و فن سے مگر در اصل یہ عہدِ جہالت ہے ترقی یافتہ حسنِ تمدن جل رہا ہے اور عریاں ہو رہا ہے پیکرِ تہذیبِ دوراں دھماکوں سے مسلط خوف کی ہر سو فضا ہے گلا انسانیت کا گھُٹ رہا ہے علوم و آگہی بے […]
وحدہٗ لاشریک تیری ذات تو ہے نباض نبضِ عالم کا تیرے قبضے میں سب کی موت و حیات تو نے تخلیقِ کائنات کے بعد نوعِ انساں کو سرفراز کیا دے کے اس کو خلافتِ ارضی اور پہنا کے سر پہ تاجِ شرف لیکن اے مالک و رحیم و کریم عصرِ حاضر کے یہ ترے بندے […]