خوشا ہر گوشۂ سیرت منّور ہے محمد کا

مثالِ آئینہ شفاف پیکر ہے محمد کا صبا مس ہوکے جب گزرے اسے مستی میں آ جائے بسا خوشبو میں ایسا جسمِ اطہر ہے محمد کا اسی سے ماہ و انجم روشنی کی بھیک لیتے ہیں کچھ اِس انداز سے چہرہ منور ہے محمد کا لکھیں اس کے سوا تعریف کیا ہم اس کی عظمت […]

فکر جب دی ہے مجھے اس میں اثر بھی دیدے

پیڑ سرسبز دیا ہے تو ثمر بھی دیدے راہِ پر خار سے میں ہنس کے گزر جاؤں گا عزم کے ساتھ ہی توفیقِ سفر بھی دیدے تجھ کو پہچان سکوں دیکھ کے حسنِ فطرت آنکھ تو دی ہے مگر ایسی نظر بھی دیدے خانۂ دل مرا خالی ہے محبت سے تری سیپ تو دی ہے […]

خدایا آرزو میری یہی ہے

یہ حسرت دل میں کروٹ لے رہی ہے بنوں کمزور لوگوں کا سہارا دکھی لوگوں کو دوں ہر دم دلاسا ضعیفوں، بیکسوں کے کام آؤں غریبوں، مفلسوں کے کام آؤں میں اپنے دوستوں کا دکھ اٹھاؤں جو روٹھے ہوں انھیں ہنس کر مناؤں برائی سے سدا لڑتا رہوں میں بھلا ہر کام ہی کرتا رہوں […]

میرے مالک یہ تجھ سے دعا ہے

تجھ سے میری یہی التجا ہے دل کو تو میرے پاکیزہ کر دے علم کا نور سینے میں بھر دے تو بچا لے برائی سے مجھ کو دے محبت بھلائی سے مجھ کو راستہ مجھ کو سیدھا بتا دے ہر غلط راستے سے بچا لے دور رکھ مجھ کو بغض و حسد سے دور رکھ […]

امن کا سورج پھر چمکا دے یا اللہ

فتنوں کو دنیا سے مٹا دے یا اللہ حال یہ ہے ہر دل کی بستی اجڑی ہے اس بستی کو پھر سے بسا دے یا اللہ تاکہ پھر شانِ عظمت ماضی کی سوئے ہوئے جذبات جگا دے یا اللہ جس پر چل کر چین ملے دل کا ہم کو نیکی کی وہ راہ دکھا دے […]

امن عالم کے لیے انسانِ اکمل بھیج دے

العطش کا شور ہے رحمت کے بادل بھیج دے فکر عاقل سے جہنم بن چکی ہے یہ زمیں ان کو سمجھانے خدایا کوئی پاگل بھیج دے عہدِ نو کو روشنی سے جس کی کچھ ہو فائدہ علم و دانش کا کوئی ماہِ مکمل بھیج دے جس کو پیتے ہی مجھے ہو معرفت تیری نصیب ساغرِ […]

دیارِ خوشبو کے ذرے ذرے کا کر رہی ہے طواف خوشبو

ہمیشہ یونہی کرے گی اس کے عروج کا اعتراف خوشبو میں جب بھی یادوں میں ان کے چہرے کے خال و خد کو پکارتا ہوں تو معبدِ قلب و جاں میں کرتی ہے دیر تک اعتکاف خوشبو یہ کس کی فرقت نے ڈال دی ہے سیاہ پوشی کی تجھ کو عادت حرم میں کعبہ سے […]

کتابِ مدحت میں شاہِ خوباں کی چاہتوں کے گلاب لکھ دوں

ورق ورق چاندنی لٹاتے کروڑہا ماہتاب لکھ دوں وہ سنگریزے جو راستوں میں پڑے ہوئے ہیں وہ محترم ہیں دیارِ خوشبو کے ذرے ذرے کو نازشِ آفتاب لکھ دوں ہوائیں سرگوشیوں میں مژدے شفاعتوں کے سنا رہی ہیں ہوائے بطحا کے مہکے جھونکوں کو مشک و عنبر کے خواب لکھ دوں یقیں ہے کامل درود […]

خطا کار چوکھٹ پہ آئے ہوئے ہیں

جبینِ ندامت جھکائے ہوئے ہیں زمینِ عرب کس قدر اوج پر ہے جہاں آسماں سر جھکائے ہوئے ہیں مدینے کی گلیوں کے پر نور منظر مری دھڑکنوں میں سمائے ہوئے ہیں کرم کیجئے اے رسولِ مکرم بڑے رنج و غم کے ستائے ہوئے ہیں نگاہوں میں دکھ اور کاندھے پہ اپنے گناہوں کی گٹھڑی اٹھائے […]

کسے نہیں تھی احتیاج حشر میں شفیع کی

ہوئی نگاہِ لطف بات بن گئی جمیع کی وہ ٹالتا نہیں ہے یا حبیب تیری بات کو سماعتیں لگی ہیں تیری بات پر سمیع کی فراق نے حصار میں لیا ہوا تھا روح کو کرم ہوا عطا ہوئی مجھے گلی وقیع کی یہ ملتجی کئی دنوں سے تھا برائے حاضری سنی گئی حضور کے غلام […]