نہ قیدِہست نہ صدیوں کی حد ضروری ہے

نبی سے عشق ہمیں تا ابد ضروری ہے سکونِ روح کی خاطر خدا کی حمد کے بعد لبوں پہ نعت کا ہونا اشد ضروری ہے جزائے کارِ محبت میں ان کے کیا کہنے جنہیں بہشت سے ان کی سند ضروری ہے کمالِ اشک کو لازم ہے سنگِ در ان کا کہ جیسے پھول کا شبنم […]

شہِ بطحا کی یہ چوکھٹ ہے، پشیماں کیوں ہے

شہِ بطحا کی یہ چوکھٹ ہے ، پشیماں کیوں ہے مانگنے والے تو کچھ مانگ پریشاں کیوں ہے عشقِ سرکار ہی جب ٹَھہرا دوا خانہِ ہست خود سمجھ لو کہ مرا دل، مرا درماں کیوں ہے چشمِ اسباب تجھے کھینچتی ہے اپنی طرف دیکھ اے دوست کہ دنیا میں چراغاں کیوں ہے ربطِ تخلیق میں […]

عشق کا ہے یہ ہنر،میں ہوں یہاں نعت خواں

عشق کا ہے یہ ہنر ، میں ہوں یہاں نعت خواں ورنہ کہاں تیرا ذکر اور کہاں نعت خواں گونجتی ہے شش جہات ، میں ترے ہی رخ کی بات ہم ہی نہیں، ہیں ترے ، کون ومکاں ، نعت خواں وصف ہے بس ذات میں بات ہے وہ نعت میں جب بھی پڑھے باندھ […]

وہ ہی بے لوث ہے جو آپ کی نسبت سے ملا

ورنہ ہر شخص یہاں اپنی ضرورت سے ملا منتظر بیٹھے ہیں اُس خواب کے دروازے پر دل کو جو ان کی تمنائے زیارت سے ملا جب اُبھارے گئے امکان پہ ہستی کے خطوط حسن مخلوق کو سب آپکی صورت سے ملا عظمتِ راہبری عقل پہ کھل جائے گی ان کے منصب کو رسولوں کی امامت […]

بلند بخت اس لئے بھی ہے تنا کھجور کا

کہ لمس اِس کی چھال میں ہے بازوئے حضور کا یہ کائنات سرمئی کتاب کی مثال ہے درِ نبی ہے گام گام حرف حرف نور کا سماعتوں کے طاق میں چراغ تابدار ہیں پیَمبری ہے آپکی کہ سلسلہ ہے نور کا یہ سبز موسموں میں ہے نموئے تاب آپ سے یہ منظروں میں حسن بھی […]

رونقِ حسنِ جہاں ہیں مرے مکی مدنی

میں ہوں عاشق مری جاں ہیں مرے مکی مدنی دل کی تتلی کہ ہے مصروفِ طوافِ خوشبو شہِ گلہائے جہاں ہیں مرے مکی مدنی شش جہاتی کبھی بن کے تو نطارہ کرنا ہر حسیں شے میں عیاں ہیں مرے مکی مدنی رخِ ہر صفحہِ قرآں پہ نہ ہو کیسے شباب بابِ مدحت میں جواں ہیں […]

جب بھی نگاہ کی ہے کِسی پر حضور نے

قطرے سے کر دیا ہے سمندر حضور نے نیزے پہ بھی رہا جو بڑی شان سے بلند چُوما تھا فرطِ نازمیں وہ سَر ، حضور نے اَوجِ کمالِ مہر کہ لحظے میں کر دیا خدّام کو فلَک کے برابر حضور نے مرجھا گئے تھے ریت پہ جو تشنگی میں پُھول اُن کو دیا ہے ساغرِ […]

جو ضم ہو عشقِ نبی میں ،ہے بیکراں دریا

اگر ہے نعت سمندر تو نعت خواں، دریا لبوں نے پیاس میں پہنا تھا کَل، لباسِ درُود گلاس لے کے کھڑے تھے یہاں وہاں دریا کرے گا پار جو خندہ لبی سے آپ کا ہے مہ و نجوم سفینے ہیں آسماں دریا وہ جن کے شورِ روانی میں ہے ثنا کا سرور اب ایک دو […]

مدینہ دیکھتے ہیں اورکہاں کھڑے ہوئے ہیں

مدینہ دیکھتے ہیں اور کہاں کھڑے ہوئے ہیں ہماری آنکھ کو کیا کیا ہنر ملے ہوئے ہیں بصد ادب ہے یہ عرضِ جہانِ دیدہ و دل حضور آئیے سب راستے سجے ہوئے ہیں ہمارا کچھ بھی نہیں قاسمِ ضیا کی قسم لویں جلائی گئی ہیں تو ہم دئیے، ہوئے ہیں وجودِ خواب لپٹنے لگا ہے […]

شبیرؑ ترے صبر کو ہم کیسے بھلائیں

اندر سے نکل پڑتی ہیں ماتم کی صدائیں اک بوند بھی پانی کی اُٹھا کر نہیں لائیں تھیں کس کے تعاقب میں وہاں تیز ہوائیں شبیرؑ کھلے آپ پہ اسرارِ حقیقت کب لوگ سرِ دار یوں عرفان کو پائیں اسلام کو کی زیست عطا جان کے بدلے دیتی ہیں جبیں آج بھی سیّد کو دعائیں […]