ابھی تو عرض نے کھینچی نہ تھی نوائے نَو
برائے خاطرِ جاں ہو گئی عطائے نَو حضور! لفظ کہاں ہیں جو پیشِ نعت کروں بس ایک شوق ہے اور وہ بھی مبتلائے نَو خبر تھی، طُرفہ نوازش ہے فردِ عصیاں پر سو مجھ سے ہونے لگی ہے کوئی خطائے نَو حذر حذر کہ کسی دستِ چارہ گر میں ہُوں سنبھل کے آئے مری سمت […]