اب ٹُوٹ گرے ہجر کی دیوار کریما!
اب ٹُوٹ گرے ہجر کی دیوار کریما دے اذنِ حضوری مجھے اِس بار کریما آنکھوں میں لیے مطلعِ جاءوک کی طلعت آئے ہیں ترے در پہ گنہگار، کریما مدحت نے سنوارے مرے احساس کے منظر ہے نعت تری حاصلِ پندار، کریما امید نے دیکھے تھے ترے خواب سہانے ایقان سے اُبھرے ہیں یہ آثار، کریما […]