نبی کے برابر ہوا ہے نہ ہو گا

کوئی ان کا ہمسر ہوا ہے نہ ہو گا ہوئی ختم ان پر نبوت ، رسالت نبی بعد ان کے ہوا ہے نہ ہو گا حکومت زمین و زماں پر ہے ان کی کوئی ان سا سرور ہوا ہے نہ ہو گا ہے اک اک صحابیؓ ہدایت کا تارا کہیں ایسا رہبر ہوا ہے نہ […]

مدحتِ مصطفیٰ گنگنانے کے بعد

دل چمکتا گیا لب ہلانے کے بعد رحمتیں، عظمتیں، عزتیں سب ملیں اس جہاں کو ترے مسکرانے کے بعد ظلمتیں مٹ گئیں روشنی ہو گئی نورِ رحمت کے تشریف لانے کے بعد دشت و صحرا کی مانند تھا یہ چمن سب بہاریں ملیں تم کو پانے کے بعد آپ ہیں راحتِ جان ودل کاسبب چین […]

ملے عظمت اسی کو بس جہاں میں

کرے جو تذکرہ ان کا زماں میں چلے جب مدحتوں کے گلستاں میں لگا خود کو ہیں ہم باغِ جناں میں نبی کے در پہ اپنا سر جھکا لو لگے گا مرتبہ ہے آسماں میں کہے اشعار جب میں نے ثنا کے حلاوت گھل گئی میری زباں میں مرے کب کام آئیں میری غزلیں؟ کہ […]

خدا کے فضل سے ہوتا ہمیں وصالِ رسول

ہماری آنکھ پہ کھلتا اگر جمالِ رسول کسی بھی رنج میں آشفتہ سر نہیں ہوتا قرار گاہ ہے میرے لیے خیالِ رسول مرے نصیب میں لکھا ہوا ہے اذنِ سفر مجھے ملے گا مدینے سے ہی نوالِ رسول فلک پہ چاند کو ٹکڑوں میں کر دیا فوراً کسی کے پاس کہاں ہے جو ہے کمالِ […]

ان کی خوشبو سے گل بھی مہکنے لگے

تازگی پائی، پا کر مچلنے لگے راحتِ دل نہ مل پائی اس کو کبھی آلِ اطہار جس کو کھٹکنے لگے مرحبا! آگئے جس گھڑی مصطفےٰ پھر اندھیروں میں جگنو چمکنے لگے بابِ رحمت کھلے مجلسِ نعت میں ابر لطف و کرم کے برسنے لگے تارِ دل پر پڑی جونہی مضرابِ عشق ساز مدحِ رسالت کے […]

مری اوقات کیا ہے اور کیا میری حقیقت ہے

مِرے آقا میں جو کچھ بھی ہوں ، سب تیری عنایت ہے کیا جس دم فلک پر چاند کو دو ٹکڑے آقا نے کہا ایمان والوں نے خدا نے دی یہ عظمت ہے ملی ہے نعت کی توفیق مجھ کو ان کی الفت سے انہی کی نعت کہتا ہوں اسی سے گھر میں رحمت ہے […]

اے ختمِ رسل نورِ خدا شاہِ مدینہ

مقبول ہو ہر ایک دعا شاہِ مدینہ امت پہ تری آج کرونا کی وبا ہے موذی سے ملے سب کو شفا شاہِ مدینہ کب سے ہے تمنّا کہ مرے خواب میں آئیں دیدار کبھی کر دیں عطا شاہِ مدینہ ممکن نہیں تعبیر ہوں یہ حرف و بیاں سے اوصاف ملے تجھ کو جُدا شاہِ مدینہ […]

بھیک ہر ایک کو سرکار سے دی جاتی ہے

خیر دشمن کی بھی جھولی میں بھری جاتی ہے بہرِ حسنین بلا لیجیے طیبہ اب تو ہجر میں عمر مری یونہی کٹی جاتی ہے قلبِ مضطر درِ سرکار پہ فوراً پہنچا جس گھڑی میں نے سنا بات سنی جاتی ہے آرزو کب سے ہے جاؤں میں درِ آقا پر مجھ سے دوری نہیں اب اور […]

ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے

جوکچھ بھی آج ہوں میں وہ احسانِ نعت ہے سب لوگ مجھ کو کہتے ہیں جو ان کا نعت گو اس کو بھی میں کہوں گا کہ فیضانِ نعت ہے کچھ بھی زباں کہے نہ سواان کی مدح کے ہر پل ہر اک گھڑی مجھے ارمانِ نعت ہے ہر عہد کی زباں پہ محمد کی […]

واصف نبی کا اپنے یہاں جو بشر نہیں

انسان کیسا بھی ہو مگر معتبر نہیں جس وقت پڑھ لیا ہے نبی پر درود بھی میری زباں کبھی بھی رہی بے اثر نہیں گستاخ جو نبی کا ہوا جل کے مر گیا جلنا نصیب اس کا ہے اس سے مفر نہیں نعتِ نبی کی بخش دے توفیق اے خدا جز اس کے کوئی خواہشِ […]