تُو رسُولِ حق، تُو قبولِ حق، ترا تذکرہ ہے فلک فلک

تُو ہے مُصطفیٰ، تُو ہے مجتبیٰ، ترا نعت خواں ہے ملک ملک ترے سوز و سازِ فراق سے رہی ساری رات بہت کسک سرِ شام سے دمِ صبح تک نہ لگی پلک سے ذرا پلک ترے سب زماں، ترا کل مکاں! ترے مہر و مہ، تری کہکشاں تُو اِدھر سے اُٹھ، تُو اُدھر سے آ، […]

آ وڑیا ترے شہر مدینے اک غمگین سوالی ھُو

کملی والیا لج پالا، کرِیں نال اُسدے لج پالی ھُو رو رو عرض گزارے شاہا پکڑ سُنہری جالی ھُو ایہہ مانگت نہیں ٹلن والا، کاسے پا خوش حالی ھُو واسطہ پاوے زہراؓ دا، کرِیں لُگیاں دی رکھوالی ھُو حسنؓ حسینؓ دا سِر صدقہ آج بھر دے بھانڈا خالی ھُو فقر ابوذرؓ والا بخشیں ، دیویں […]

سما سکتی ہے کیونکر حبِ دُنی کی ہوا دل میں

بسا ہو جب کہ نقش حبِ محبوب خدا دل میں محمد کی محبت دینِ حق کی شرطِ اول ہے اسی میں ہو اگر خامی تو سب کچھ نامکمل ہے محمد کی غلامی ہے سند آزاد ہونے کی خدا کے دامنِ توحید میں آباد ہونے کی محمد کی محبت خون کے رشتوں سے بالا ہے یہ […]

جاری ہے فیض شہر شریعت کے بابؑ سے

لب خشک ہیں تو مانگ لے کوثر جناب سے دنیائے بے ثبات کے دانش کدوں سے کیا حل مسئلوں کا پوچھ رسالت مآب سے اس اسمِ بے مثال کی رعنائیاں نہ پوچھ گلشن مہک رہا ہے دمکتے گلاب سے گنجینہ علوم میں کوئی کمی نہیں وابستگی ہے شرط رسالت مآب سے اہلِ قلم کا اس […]

تری نگاہ سے ذرے بھی مہر و ماہ بنے

گدائے بے سروساماں جہاں پناہ بنے​ رہ مدینہ میں‌قدسی بھی ہیں جبیں فرسا یہ آرزو ہے مری جاں بھی خاکِ راہ بنے​ زمانہ وجد کُناں اب بھی اُن کے طوف میں ہے جو کوہ و دشت کبھی تیری جلوہ گاہ بنے​ حضور ہی کے کرم نے مجھے تسلی دی حضور ہی مرے غم میں مری […]

حرمِ سیدِ ابرار تک آ پہنچے ہیں

سرزمینِ فلک آثار تک آ پہنچے ہیں ہم سیہ کار بھی انوار تک آ پہنچے ہیں ہم گنہ کار بھی دربار تک آ پہنچے ہیں رقص کرتے ہوئے سامانِ سفر باندھا تھا وجد کرتے ہوئے سرکار تک آ پہنچے ہیں اللہ اللہ یہ ہم سوختہ جانوں کا نصیب کہ ترے سایہء دیوار تک آ پہنچے […]

بروزِ جمعہ پڑھے جو درود اور صلوات

نہ ہووے کیونکر اُسے نارِ دوزخی سے نجات کہا خدا نے پڑھو مومنو نبی پہ درود بس اب ہمیں یہ وردِ درود ہے طاعات گر آرزوئے قبولِ دعا ہو اے لوگو بروز جمعہ پڑھو تم درود ہر اوقات دعا کے ساتھ نہ ہووے اگر درود شریف نہ ہووے حشر تلک بھی بر آورِ حاجات قبولیت […]

شاہِ کونین پر عزتیں ختم ہیں

آپ کی ذات پر عظمتیں ختم ہیں ختم دورِ رسالت ہوا آپ پر مصطفیٰ پر سبھی شوکتیں ختم ہیں قاب قوسین سے صاف ظاہر ہوا ایسی قربت پہ سب قربتیں ختم ہیں جو کتابِ مبیں اتری ہے آخری اس پہ تفہیم کی لذتیں ختم ہیں ہے رفعنا میں جب رفعتوں کا بیاں اُن پہ کیوں […]

عاصیو جُرم کی دوا ہے درود

کیا دوا عینِ کیمیا ہے درود سب عبادت میں ہے شمولِ ریا پر عباداتِ بے ریا ہے درود ایک ساعت میں عمر بھر کے گناہ کرتا معدوم اور فنا ہے درود حشر کی تیرگی سیاہی میں نور ہے، شمعِ پُر ضیا ہے درود چھوڑیو مت درود کو کافی راہِ جنت کا رہنما ہے درود

تصادمِ حق و باطل ہے میرے سینے میں

قرار اب تو نہ مرنے میں ہے نہ جینے میں نظامِ مصطفوی کو نہ بھول اے مسلم تری حیات کا مقصود ہے مدینے میں طلب جو ہو تو مدینے کی ہو طلب تجھ کو مزا ہے ساقیء کوثر سے جام پینے میں رشید دین کی، دنیا کی ہر خوشی ہے نہاں کمی ہے کون سی […]