وہ کیسا سماں ہوگا کیسی وہ گھڑی ہوگی

جب پہلی نظر اُن کے روضے پہ پڑی ہوگی یہ کوچہ جاناں ہے، آہستہ قدم رکھنا ہرجا پہ ملائک کی بارات کھڑی ہوگی کیا سامنے جا کے ہم حال اپنا سنائیں گے سرکار کا در ہوگا، اشکوں کی جھڑی ہوگی کچھ ہاتھ نہ آئے گا، آقا سے جدا رہ کر سرکار کی نسبت سے توقیر […]

ایسا کوئی محبوب نہ ہو گا نہ کہیں ہے

بیٹھا ہے چٹائی پہ مگر عرش نشیں ہے مِلتا نہیں کیا کیا، دو جہاں کو ترے در سے؟ اِک لفظ “نہیں“ ہے، کہ ترے لب پہ نہیں ہے تُو چاہے تو ہر شب ہو مثالِ شبِ اسرٰی تیرے لئے دو چار قدم عرش بریں ہے رُکتے ہیں وہیں جا کے قدم اہلِ نظر کے اُس […]

"زہے نصیب ، میں سرکار کے دیار میں ہوں”

"​زہے نصیب ، میں سرکار کے دیار میں ہوں”​ خوشا کہ گنبد خضرا ہی کے جوار میں ہوں خدا کا شکر ہے ، میں اِن دنوں کہاں آیا کبھی قُبا میں ، کبھی اُن کی رہگزار میں ہوں بلایا مسجدِ آقا میں میرے خالق نے نظر ہے روضے پہ ، میں صحنِ سایہ دار میں […]

میرے بنے کی بات نہ پوچھو ، میرا بنا ہریالہ ہے

خُسرَوِ خوباں، سرورِ عالم، تاجِ شفاعت والا ہے مَن موہن بوہتیرے ہی دیکھے، ایسا تو دیکھا نہ بھالا ہے دونوں جَگَت کو لُوٹ کے بیٹھا، پھر بھی بھولا بھالا ہے اُس پہ نظر جب جم جاتی ہے، پھر نہیں جچتا کوئی نظر میں جس نے نظر پائی ہے اونچی، جپتا اُسی کی مالا ہے حُسن […]

میری پہچان ہے سیرت اُن کی

میرا ایمان ! محبت اُن کی آج ہم فلسفہ کہتے ہیں جسے وہ مساوات تھی عادت اُن کی فتحِ مکہ ، مرے دعوے کی دلیل عدل کی جان ، عدالت اُن کی حرفِ اَتمَمْتُ عَلَیْکُم ہے گواہ حُسنِ تکمیل ہے بعثت اُن کی میں کہ راضی بہ رضائے رب ہوں کوئی حسرت ہے تو حسرت […]

پھر دیارِ پاک کا اے کاش منظر دیکھتے

پھر رسولُ اللہ کا دربارِ انور دیکھتے بڑھ کے ہو جاتی نگاہِ شوق مصروفِ طواف دور سے جب گنبدِ خضرا کا منظر دیکھتے شوق میں کوہِ اُحد پر پھر پہنچتے ایک بار اور خود اپنا بلندی پر مقدر دیکھتے آ کے فرطِ شوق میں بابِ مجیدی کے قریب پھر سحر کا وہ نظر افروز منظر […]

گزرا وہ جدھر سے وہ ہوئی راہ گزر نُور

اُس نُورِ مجسم کی ہے ہر شام و سحر نُور لب نُور دہاں نُور زباں نُور بیاں نُور دل نُور جگر نُور جبیں نُور نظر نُور گیسو کی ضیا نُور عمامہ کی چمک نُور اُس آیہِ رحمت کی ہے ہر زیر و زبر نُور سر تا بقدم نُور عیاں نُور نہاں نُور ہر سمت تری […]

ہمارے دل سے زمانے کے غم مٹا یا رب

ہو میٹھے میٹھے مدینے کا غم عطا یا رب غمِ حیات ابھی راحتوں میں ڈھل جائیں تری عطا کا اشارہ جو ہوگیا یا رب پئے حسین و حسن فاطمہ علی حیدر ہمارے بگڑے ہوئے کام دے بنا یا رب ہماری بگڑی ہوئی عادتیں نکل جائیں ملے گناہوں کے اَمراض سے شِفا یا رب مجھے دے […]

ذاتِ قدیم صاحبِ ہر فخر و ناز ہے

ستار ہے ، صمد ہے ، وہی بے نیاز ہے رہتا ہے مہربان دوعالم پہ ہر گھڑی میرا خدا کریم ہے ، بندہ نواز ہے جھکتے ہیں اُس کے آگے ملک بھی رسول بھی سارا اُسی کے واسطے عجز و نیاز ہے نغمہ سرائے حمد ہے بارش کی بوند بوند دستِ صبا میں اس کی […]

بزمِ اہلِ عشق رقصاں از نگاہِ مست تو

دشت قلبم شد گلستاں از نگاہِ مست تو لطف بر پنجاب کردی از رہ اہل قلوب تیرہ شب شد صبح تاباں از نگاہِ مست تو بے ثمر ہر نخل بود و خالی از بو گل تمام یک چمن شد ہر بیاباں از نگاہِ مست تو محفل جذب و جنون و ذوق و شوق و ھا […]