فخر زماں ہو، فخر نبوت تم ہی تو ہو

دونوں جہاں ہیں جسکی بدولت تم ہی تو ہو ہم عاصیوں کا تم ہی سہارا ہو یا نبی ہم پر خدائے پاک کی رحمت تم ہی تو ہو ہر اک نبی نے جس کی رسالت کا دَم بھرا وہ بے مثال نازِ رسالت تم ہی تو ہو معراج میں یہ راز مشیت عیاں ہوا ہے […]

ایسی ادا سے آج تُو عشق کو انقلاب دے

رخ سے اٹھا نقاب کو، حسن کو آب و تاب دے عقل ہوئی ہے حکمراں، محفلِ کائنات کی عقل کو بد حواس کر، قلب کو اضطراب دے اٹھتے ہیں میرے قلب سے، تیرے شرارِ عشق اب میرے چراغِ ماند کو رونقِ آفتاب دے خاکِ وجود خشک ہے، بحرِ شعور خشک ہے روحِ وجود ایک بار […]

مدینےکا سفر ہے اور میں نم دیدہ نم دیدہ

مدینے کا سفر ہے اور میں نم دیدہ نم دیدہ جبیں افسردہ افسردہ ، قدم لغزیدہ لغزیدہ چلا ہوں ایک مجرم کی طرح میں جانبِ طیبہ نظر شرمندہ شرمندہ بدن لرزیدہ لرزیدہ کسی کے ہاتھ نے مجھ کو سہارا دے دیا ورنہ کہاں میں اور کہاں یہ راستے پیچیدہ پیچیدہ غلامانِ محمّد دور سے پہچانے […]

حسیں رنگ بھاروں کا مسکن مدینہ

محمد کے پیاروں کا مسکن مدینہ کیا اک اشارا ھوا چاند ٹکڑے ان چاند تاروں کا مسکن مدینہ کروڑوں ھیں ھم جیسے آنکھیں بچھائے ھم جیسے ساروں کا مسکن مدینہ وھاں جا کے محسن مٹی بے قراری ھم بے قراروں کا مسکن مدینہ جھاں جبرائل آ کے جھکتے رھے ھیں خوش بخت غاروں کا مسکن […]

سارے حرفوں میں اک حرف پیارا بہت اور یکتا بہت

سارے ناموں میں اک نام سوہنا بہت اور ہمارا بہت اُس کی شاخوں پہ آ کر زمانوں کے موسم بسیرا کریں اک شجر، جس کے دامن کا سایہ بہت اور گھنیرا بہت ایک آہٹ کی تحویل میں ہیں زمیں آسماں کی حدیں ایک آواز دیتی ہے پہرا بہت اور گھنیرا بہت جس دئیے کی توانائی […]

اے کہ ہے حسن ترا زینت و عنوانِ جمال

اے کہ ہے ذات تری یوسف کنعانِ جمال اے کہ ہے نور ترا روغنِ تصویرِ وجود اے کہ ہے نام ترا رونقِ ایوانِ جمال اے کہ زلفوں سے تری عشق کی شامیں روشن اے کہ چہرہ ہے ترا صبح درخشانِ جمال جز ترے کون ہے مخدومِ جہانِ خوباں جز ترے کون ہے کونین میں سلطانِ […]

بُطونِ سنگ میں کیڑوں کو پالتا ہے تُوہی

بُطونِ سنگ میں کیڑوں کو پالتا ہے تُو ہی صدف میں گوہرِ نایاب ڈھالتا ہے تُو ہی دلوں سے رنج و الم کو نکالتا ہے تُو ہی نفَس نفَس میں مَسرّت بھی ڈالتا ہے تُو ہی وہ جنّ و انس و مَلک ہوں کہ ہوں چرند و پرند تمام نوعِ خلائق کو پالتا ہے تُو […]

نہ رخشِ عقل، نہ کسب و ہنر کی حاجت ہے

بنی کی نعت ریاضت نہیں، سعادت ہے یہ کافروں کا بھی ایماں تھا اُن کے بارے میں جو اُن کے پاس امانت ہے، باحفاظت ہے ہے امر اُن کا ہمارے لیے خدا کا امر کہ جو ہے اُن کی اطاعت، خدا کی طاعت ہے ہے اُن کا ذکرِ گرامی عروجِ نطق و بیاں یہ اُن […]

دل الفت سرکار بسانے کے لئے ہے​

جاں آپ کی حرمت پہ لٹانے کے لیے ہے​ دل کہنے لگا کرتے ہی روزے کا نظارہ​ یہ نقش تو آنکھوں میں سجانے کے لیے ہے​ ​  پیغام سناتی ہے یہی آیہ تطہیر​ عزت میرے آقا کے گھرانے کے لیے ہے​ ​ہم امتی ان کے ہیں تو کیسے رہیں محروم​ جب ان کا کرم سارے […]

معرفت کا نور ہے اور آگہی قرآن ہے

جس سے انساں کو ملی ہے روشنی قرآن ہے اب غرض تجھ سے نہیں ہے مجھ کو بزمِ کائنات عاشقِ سرکار ہوں ، دنیا مری قرآن ہے مضطرب رہتے ہیں جو یہ ان کو سمجھائے کوئی پڑھ کے تو دیکھو ، سکونِ دائمی قرآن ہے سینہء اطہر پہ یہ نازل ہوا سرکار کے درحقیقت مومنوں […]