ہر مَرَض کی دوا درود شریف

دافعِ ہر بلا درود شریف ورد جس نے کِیا درود شریف اور دل سے پڑھا درود شریف حاجتیں سب روا ہوئیں اُس کی ہے عجب کیمیا درود شریف جو محبِ جنابِ احمد ہے اُس کو مونس ہوا درود شریف اے صبا تو ہی جا کے پہنچا دے بر درِ مصطفی درود شریف آپ کا سایہ […]

دل کو لذت آشنا کرتا ہے تُو

عاصیوں کو باصفا کرتا ہے تو تیری رحمت کی کوئی حد ہی نہیں نعمتیں سب کو عطا کرتا ہے تُو دوستوں سے ہوگا تیرا کیا سلوک دشمنوں کا جب بھلا کرتا ہے تُو نفسِ امارہ کو کر دے مطمئن بادِ صرصر کو صبا کرتا ہے تُو ایک بچے کے لیے ماں باپ کو پرورش کا […]

میرے درد و غم کی دوا ہو رہی ہے

محمد کی محفل عطا ہو رہی ہے شہنشاہِ ارض و سما آ رہے ہیں خدا کی خدائی فدا ہو رہی ہے انہیں مشکلوں میں بنا کر وسیلہ بلاوں سے خلقت رِہا ہو رہی ہے وہ در چوم کے شاید آئی ہے عارف معطر جو بادِ صبا ہو رہی ہے

دل و نظر میں لیے عشقِ مصطفیٰ آؤ

خیال و فکر کی حدّوں سے ماورا آؤ درِ رسول سے آتی ہے مجھ کو یہ آواز یہاں ملے گی تمہیں دولتِ بقا آؤ جلائے رہتی ہے عصیاں کی آگ محشر میں بس اب نہ دیر کرو شافعِ الورا آؤ برنگِ نغمہِ بلبل سنا کے نعتِ نبی ذرا چمن میں شگوفوں کا منہ دھلا آؤ […]

میرے آقا آؤ کہ مدت ہوئی ہے

میرے آقا آؤ کہ مدت ہوئی ہے تیری راہ میں اکھیاں بچھاتے بچھاتے تیری حسرتوں میں تیری چاہتوں میں بڑے دن ہوئے گھر سجاتے سجاتے قیامت کا منظر بڑا پر خطر ہے مگرمصطفی کا جو دیوانہ ہوگا وہ پل پے گزرے گا مسرور ہو کے نعرہ نبی کا لگاتے لگاتے میرا یہ ہے ایماں یہ […]

ہر عاشق رسول یہ نعرہ لگائے گا

بعد از نبی کوئی نبی آیا نہ آئیگا ان منکران ختم نبوت کے مکر سے اب ہر مسلماں جاگ کے سب کو جگائیگا اللہ کے دیں کا غم لئے پھرتا رہیگا جو دست نبی سے جام وہ کوثر کا پائیگا جو مسلمہ کذاب کے سانچے میں ڈھل گئے واللہ کذب کا قافلہ جنت نہ جائیگا […]

تخلیقِ نورِ محمدی

كُنْتُ كَنْزًا حسن کا شوقِ شہود تھی پسِ پردہ تمنائے نمود کنت کنزاً صوفیاء اکرام کے ہاں روایت کردہ ایک حدیث کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ پاک نے فرمایا کہ وہ ایک چھپا ہوا خزانہ تھا اور اس نے چاہا کہ اسے جانا جائے جاودانی حسن کا اظہار ہو دید کی خاطر نگاہِ یار […]

ایک بے نام کو اعزازِ نسب مل جائے

کاش مدّاحِ پیمبر کا لقب مل جائے میری پہچان کسی اور حوالے سے نہ ہو اقتدارِ درِ سلطانِ عرب مل جائے آدمی کو وہاں کیا کچھ نہیں ملتا ہوگا سنگ ریزوں کو جہاں جنبشِ لب مل جائے کس زباں سے میں تری ایک جھلک بھی مانگوں طلبِ حُسن تو ہے حُسنِ طلب مل جائے اب […]

چومیں گے لبِ دل سے طیبہ کی زمیں جا کر

آئے گا قرار اب تو اِس دل کو وہیں جا کر وہ ارض کہ جو رشکِ فردوسِ بریں ٹھہری دیکھیں گے زہے قسمت ہم بھی وہ زمیں جا کر آنکھیں ہیں کہ شرمندہ ، دل ہے کہ بڑا نادم کس کس کو سنبھالوں گا آقا کے قریں جا کر قرآنِ مبیں اکثر سنتے تھے سناتے […]