فرشتے حضوری میں پہنچا رہے ہیں

محمد پہ لاکھوں سلام آ رہے ہیں ہوئے جو گرفتارِ آں زلفِ مشکیں وہ آزاد اَز دامِ دنیا رہے ہیں سب اپنی جگہ شاد کامِ تجلی تجلی کچھ اس طور دکھلا رہے ہیں فزوں تر ہے دربارِ طیبہ کی رونق جو سَو اٹھ گئے تو ہزار آ رہے ہیں مطاعِ زمانہ بنے اللہ اللہ جو […]

خارج از امکاں ہے تکمیلِ بیانِ مصطفیٰ

بس ہوں تا مقدور میں بھی نغمہ خوانِ مصطفیٰ کیا بشر سمجھے گا ذاتِ بے کرانِ مصطفیٰ خالقِ کونین بھی ہے قدر دانِ مصطفیٰ آئے دنیا سے سمٹ کر عاشقانِ مصطفیٰ دیدنی ہے ازدحامِ آستانِ مصطفیٰ شانِ آقائی تو دیکھیں سرورِ کونین کی رہتی دنیا کے ہیں آقا، خادمانِ مصطفیٰ بے مثیل و منفرد اپنی […]

بیاں ہے لبوں پر شہِ انس و جاں کا

مرے گرد حلقہ ہے کرّ و بیاں کا وہ محبوب و ممدوح ربِ جہاں کا یہ رتبہ خوشا قبلۂ مقبلاں کا شرف آسماں سے بڑھا خاکداں کا کہ مسکن ہے یہ عرش کے میہماں کا ہے پہرہ بہاروں کا در شہرِ خوباں گزر کیسے ممکن وہاں ہو خزاں کا سوادِ مدینہ قریب آ گیا ہے […]

یونہی نہیں بہ حجّتِ لولاک میں کہوں

منت پذیر اس کی ہے یہ بزمِ کاف و نوں از چہرۂ صبیح، گریبانِ صبح چاک رنگِ شفق ہے ماند زِ رخسارِ لالہ گوں فی الذّات و فی الصّفاتِ خدا وہ نہیں شریک مخلوقِ کائنات میں سب سے بڑا ہے یوں پڑھتے رہیں جو مصحفِ قرآنِ مصطفیٰ پائیں گے حکمتوں کے گہر ہائے گوناگوں مال […]

سجا کر سر پہ وہ تاجِ نبوت زرنگار آیا

رسولِ ہاشمی آیا نرالا تاجدار آیا وہ ختمِ مرتبت عالی نسب فرخ تبار آیا وہ بزمِ نازِ حسنِ لم یزل کا راز دار آیا خدا کی صنعتِ تخلیق کا وہ شاہکار آیا امام الانبیاء، ختم الرسل سا تاجدار آیا بہاروں کے لئے مژدہ کہ وہ جانِ بہار آیا ہوا شاداب گلشن ہر شجر پر برگ […]

کیفِ دل کب سخن وری سے ملے

ہاں مگر مدحتِ نبی سے ملے علم و دانش نہ آگہی سے ملے راہِ حق اس کی پیروی سے ملے روئے روشن ہو رشکِ ماہِ منیر لب گلِ تر کی پنکھڑی سے ملے اہلِ عالم کو رہنما کامل ہر سبق سیرتِ نبی سے ملے دینِ قیم صحیفۂ قرآں یہ خزانے اسی سخی سے ملے لے […]

مظہرِ شانِ خالق و جامعِ ہر صفات کا

ذکر زباں پہ ہے مری سرورِ کائنات کا ہے وہی نقشِ اولیں نقش گرِ حیات کا سہرا انہیں کے سر بندھا رونقِ کائنات کا وہ ہے چراغِ ضو فشاں محفلِ شش جہات کا اہلِ جہاں کو رہنما شاہرہِ نجات کا قابلِ دید رنگ ہے حسنِ تعلقات کا رحمتِ کائنات سے خالقِ کائنات کا اسرا کی […]

دل افروزی کا باعث ہے تقاضائے محبت بھی

نبی کی مَحمِدت کرنا مزید امرِ سعادت بھی نبی کی ذات میں رب نے سمو دی شانِ صنعت بھی مثالی حسنِ صورت نیز ہے بے مثل سیرت بھی اسی پر منتہی کارِ نبوت بھی رسالت بھی اسی پر دیں ہوا کامل، ہوئی کامل شریعت بھی کشش اس طرح رکھتی ہے نبی کی ذات و شخصیت […]

محبت سے سرشار ہو کر لکھی ہے

بصد شوق سنیے کہ نعتِ نبی ہے توجہ خصوصی جو اللہ کی ہے دیارِ نبی میں عجب دلکشی ہے ضیا گستری ہی ضیا گستری ہے وہ منظر ہے ہر سو کہ بس دیدنی ہے وہ ماحولِ روضہ میں خوشبو بسی ہے کوئی جیسے جنّت کی کھڑکی کھلی ہے یہ اعزاز و اکرامِ خاکِ مدینہ جبینِ […]

آمنہ بی کا پسر، راج کنور، لختِ جگر

ہے شہنشاہِ زمن، ختمِ رسل، فخرِ بشر چاک رکھے شبِ یلدا کا جگر تا بہ سحر بزمِ عالم میں سجی ایسی کہاں شمعِ دِگر دوپہر، چار پہر، بلکہ ہے سچ آٹھ پہر ہر جگہ صلِّ علیٰ تذکرۂ خیرِ بشر رزم گاہِ حق و باطل میں وہ ہے شیرِ ببر ایک آئے نہ مقابل جو چلے […]