جامعِ اوصاف ہے جو حسن کی تصویر ہے

وہ نبی مجھ کو ملا ہے یہ مِری تقدیر ہے کیا ہے زورِ حیدریؓ کیا قوت شبیرؓ ہے زورِ بازوئے محمد ہی کی اک تعبیر ہے تزکیہ اخلاق کا، افکار کی تطہیر ہے ہر طرح تذکیر ہے، تنذیر ہے، تبشیر ہے کس طرح سنورے بشر غوطہ زنِ تدبیر ہے وہ کہ ہے معمارِ انساں فکرِ […]

نُورِ سرکار‏ نے ظلمت کا بھرم توڑ دیا

کفر کافور ہوا شِرک نے دَم توڑ دیا سوزِ غم ختم کیا سازِ سِتم توڑ دیا آپ نے سلسلہء رنج والم توڑ دیا نعرہ زن رِند بڑھے ساقیِ محشر کی طرف جامِ کوثر جو مِلا ساغرِ جم توڑ دیا دستِ قدرت! ترے اِس حسنِ نگارش پہ نثار نام وہ لوح پر لکّھا کہ قلم توڑ […]

ہر طرف تیرگی تھی نہ تھی روشنی

آپ آئے تو سب کو ملی روشنی بزمِ عالم سے رخصت ہوئی ظلمتیں جب حرا سے ہویدا ہوئی روشنی چاند سورج کا انساں پرستار تھا آپ سے قبل اندھیرا تھی روشنی سوئے عرشِ علٰی مصطفیٰ کا سفر روشنی کا طلبگار تھی روشنی ہے وہ خورشیدِ اطلاق خیر البشر جس سے پاتا ہے ہر آدمی روشنی […]

جب بھی آنکھوں نے مری گنبدِ خضرا دیکھا

نور میں ڈوبا ہوا اپنا سراپا دیکھا معجزہ یہ بھی شہ دیں کا ہے بیشک ورنہ سوکھے تھن سے بھی کبھی دودھ نکلتا دیکھا؟ یہ مدینہ ہے مقام اس کا خدا ہی جانے تاج والوں کو بھی اس خاک پہ جھکتا دیکھا آپ کے حکم پہ انسان کیا کنکریوں کو مشتِ بوجہل میں پڑھتے ہوئے […]

ہم نے تجھے جانا ہے فقط تیری عطا سے

سورج کے اجالوں سے، فضاؤں سے ، خلا سے چاند اور ستاروں کی چمک اور ضیا سے جنگل کی خموشی سے، پہاڑوں کی انا سے پرہول سمندر سے ، پراسرار گھٹا سے بجلی کے چمکنے سے ، کڑکنے کی صدا سے مٹی کے خزانوں سے، اناجوں سے، غذا سے برسات سے، طوفان سے، پانی سے، […]

حق کا یہ انقلاب مرے مصطفٰی سے ہے

رحمت بھرا سحاب مرے مصطفٰی سے ہے اے خاکِ پاک شہرِ مدنیہ جو ہے ترا ہر ذرہ آفتاب مرے مصطفٰی سے ہے پڑھ کر جسے شعور ملا ہم کو زیست کا وہ نور کی کتاب مرے مصطفٰی سے ہے ہم ہیں عذاب قہر الہی کے مستحق ہاں دور ہر عذاب مرے مصطفٰی سے ہے اُس […]

چاند سے اُن کے چہرے پر گیسوئے مشک فام دو

دن ہے کھلا ہوا مگر وقتِ سحر ہے شام دو روئے صبیح اک سحر زلفِ دوتا ہے شام دو پھول سے گال صبح دم مہر ہیں لَالَہ فام دو عارضِ نور بار سے بکھری ہوئی ہٹی جو زلف ایک اندھیری رات میں نکلے مہِ تمام دو اُن کی جبینِ نور پر زلفِ سیہ بکھر گئی […]

صبحِ دم آمنہ بی کی آغوش میں

صبحِ دم آمنہ بی کی آغوش میں جب وہ عالی نسب نیک نام آ گیا دیکھنے والے سب کہہ اٹھے مرحبا بدرِ کامل بہ حسنِ تمام آ گیا حکمِ ربی سے چرخِ نبوت پہ جب نور افشاں وہ ماہِ تمام آ گیا ظلمتیں سب رخِ دہر سے چھٹ گئیں ظلمتوں کو فنا کا پیام آ […]

اللہ نے یوں شان بڑھائی ترے در کی

بخشی ہے ملائک کو گدائی ترے در کی پانے کو تو خورشید و قمر چرخ نے پائے کیا پایا اگر خاک نہ پائی ترے در کی جنت نے اتارے تو بہت نور کے نقشے تصویر مگر ہاتھ نہ آئی ترے در کی حوروں نے، ملائک نے، اجنا نے، بشر نے کس کس نے کہاں بھیک […]