مجھ پہ چشمِ کرم اے میرے آقا کرنا

حق تو میرا بھی ہے رحمت کا تقاضہ کرنا میں کہ زرہ ہوں مجھے وسعتِ صحرا دےدے کہ تیرے بس میں ہے قطرے کو دریا کرنا میں ہوں بےکس تیرا شیوہ ہے سہارہ دینا میں ہوں بیمار تیرا کام ہے اچھا کرنا تو کسی کو بھی اٹھاتا نہیں اپنے در سے کہ تیری شان کے […]

دل ہوا جس وقت یک سُو ،جب بھی تنہائی مِلی

ہم کو محبوبِ خدا کی جلوہ آرائی مِلی سلسبیل و کوثر و تسنیم مولا کا کرم ہر قدم پر حشر میں ہم کو پزیرائی ملِی آنکھ کھولی تھی جنہوں نے شرک کے ماحول میں ایسے اندھوں کو بھی اُن کے در سے بینائی مِلی ہو سکی حاصل نہ جس کو نسبتِ خیرالورٰی دو جہاں میں […]

تجھے مِل گئی اِک خدائی حلیمہ

کہ ہے گود میں مُصطفائی حلیمہ یہ کیا کم ہے تیری بڑائی حلیمہ ‘​‘​زمانے کے لب پر ہے’’مائی حلیمہ بہت لوریاں دِیں مہِ آمنہ کو کہاں تک ہے تیری رسائی حلیمہ جو ہے آخری اک شہکارِ قدرت وہ صورت ترے گھر میں آئی حلیمہ میسّر نہیں ہے کسی کو جہاں میں وہ دولت جو تم […]

میں رہ کی خاک بن کران کی گلیوں میں پڑی ہوتی

یا سنگ آستاں بن کر کہیں در پر جڑی ہوتی شہ لولاک جس جنگل میں ریوڑ لے کے جاتے تھے خدایا ! کاش اس جنگل میں میری جھونپڑی ہوتی گزرتے آپ گلیوں سے میں گلیاں چومتی پھرتی زیارت ہو تو جاتی ، گو گھڑی یا دو گھڑی ہوتی نکلتا چاند حجرے سے تو ،سورج کو […]

اُن کا تصور اور یہ رعنائیِ خیال

دل اور ذہن محو پذیرائیِ خیال مرکز ہوں اک وہی مِرے ذوقِ خیال کے یکتا ہیں وہ، تو چاہیے یکتائیِ خیال ممکن نہیں کہ وصف بیاں اُن کے ہو سکیں محدود کس قدر ہے یہ پہنائیِ خیال بے حرف و صوت بھی یہاں ممکن ہے التجا کافی ہے عرضِ حال کو گویائیِ خیال ہر ذرہ […]

ادھر بھی نگاہِ کرم یا محمد ! صدا دے رہے ہیں یہ در پر سوالی

بہت ظلم ڈھائے ہیں اہلِ ستم نے ، دہائی تری اے غریبوں کے والی نہ پوچھو دلِ کیفِ ساماں کا عالم ، ہے پیشِ نظر ان کا دربارِ عالی نگاہوں میں ہیں پھر حضوری کے لمحے ، تصور میں ہے ان کے روضے کی جالی جبیں خیر سے مطلعِ خیر احساں ، بدن منبعِ نور […]

یہ نہ پوچھو ملا ہمیں درِ خیرالورٰی سے کیا

نظر ان کی پڑی تو ہم ہوئے پل بھر میں کیا سے کیا مرے دل کی وہ دھڑکنیں دمِ فریاد سنتے ہیں متوجہِ جو ہیں ، وہ ہیں ، مجھے بادِ صبا سے کیا نظر ان کی جو ہو گئی اثر آیا دعا میں بھی مرے دل کی تڑپ ہی کیا ، مرے دل کی […]

عکسِ روئے مصطفے سے ایسی زیبائی ملی

کِھل اُٹھا رنگِ چمن ، پُھولوں کو رعنائی ملی سبز گنبد کے مناظر دیکھتا رہتا ہوں میں عشق میں چشمِ تصور کو وہ گیرائی ملی جس طرف اُٹھیں نگاہیں محفلِ کونین میں رحمۃ للعٰلمین کی جلوہ فرمائی ملی ارضِ طیبہ میں میسر آگئی دو گز زمیں یوں ہمارے منتشر اجزا کو یکجائی ملی اُن کے […]

اس کو نہ چھو سکے کبھی رنج و بلا کے ہاتھ

اٹھے ہیں جس کے حق میں رسولِ خدا کے ہاتھ بھیجا گیا ہے دین رسولِ خدا کے ہاتھ ایسا چراغ، دُور ہیں جس سے ہوا کے ہاتھ دیکھوں گا جب بھی روضہ ء اقدس کی جالیاں چُوموں گا فرطِ شوق سے پیہم لگا کے ہاتھ گیسوئے مصطفی سے یقینا ہوئی ہے مس خوشبو کہاں سے […]

نور آنکھوں میں تو چہروں پہ اُجالے ہوں گے

نور آنکھوں میں تو چہروں پہ اُجالے ہوں گے​ مصطفی والوں کے انداز نرالے ہوں گے​ حشر میں اُن کی شفاعت کے حوالے ہوں گے​ ہم گنہگاروں کو سرکار سنبھالے ہوں گے​ نزع میں ان کے تصور سے مقدر چمکا​ قبر میں اب تو اُجالے ہی اُجالے ہوں گے​ اُن کی ہر ایک صفت جب […]