کون ہو مسند نشیں خاکِ مدینہ چھوڑ کر

خلد دیکھے کون ، کوئے شاہِ بطحٰی چھوڑ کر دل کی بستی اور ارمانوں کی دنیا چھوڑ کر ہائے کیوں لوٹے تھے ہم شہرِ مدینہ چھوڑ کر گھر سے پہنچے اُن کے روضے پر تو ہم کو یوں لگا جیسے آ نکلے کوئی گُلشن میں ، صحرا چھوڑ کر کون نظروں پر چڑھے حُسنِ حقیقت […]

بے اجازت اُس طرف نظریں اٹھا سکتا ہے کون

وہ نہ بلوائیں تو اُن کے در پہ جاسکتا ہے کون خالقِ کُل، مالکِ کُل ، رازقِ کُل ہے وہی یہ حقائق جز شہ بطحٰی بتا سکتا ہے کون اک اشارے سے فلک پر چاند دو ٹکڑے ہُوا معجزہ یہ کون دیکھے گا؟ دکھا سکتا ہے کون کس کی جرات ہے نظر بھر کر اُدھر […]

محمد باعثِ حُسن جہاں ایمان ہے میرا

محمد حاصلِ کون و مکاں ایمان ہے میرا محمد اوّل و آخر محمد ظاہر و باطن محمد ہیں بہر صورت عیاں ایمان ہے میرا شرف اِک کملی والے نے جنہیں بخشا ہے قدموں میں وہ صحرا بن گئے ہیں گلستاں ایمان ہے میرا محبت ہے جسے غارِ حرا میں رونے والے سے وہ انساں ہے […]

مر کے اپنی ہی اداؤں پہ اَمر ہو جاؤں

اُن کی دہلیز کے قابل میں اگر ہو جاؤں اُن کی راہوں پہ مجھے اتنا چلانا یارب کہ سفر کرتے ہوئے گردِ سفر ہو جاؤں زندگی نے تو سمندر میں مجھے پھینک دیا اپنی مٹھی میں وہ لے لیں تو گوہر ہو جاؤں میرا محبوب ہے وہ راہبرِ کون و مکاں جس کی آہٹ بھی […]

آنکھوں کا چین دل کا سہارا ھے "یا نبی

آنکھوں کا چین دل کا سہارا ھے یا نبی ​ہر ایک امتحان میں چارہ ھے یا نبی دل کو سکون آیا مقدر سنور گیا جب بھی مصیبتوں میں پکارا ھے یا نبی آئیں گے بن کے نور درِ ظلمتِ لحد طوفانِ ِحشر میں بھی کنارہ ھے یا نبی دامن میں گر ضیا ئے در ِ […]

میری دیوانگی پر انگلیاں اٹھتی ہیں محشر میں

کہ آتا ہــے وہ دیــوانہ محمد کی محبـــت کا مری فریاد پر محشر میں محــــبوبِ خدا بــولے اسے رھنـــے دو دیوانہ ہے یہ میری محبــت کا زبان و دل بقدرِ شـــوق دونوں برگؔ عاجـز ہیں بیاں کیا ہو شہنشاہِ عرب کی شان و شوکت کا

در ِ پاک پر بلا لے مری جاں مدینے والے

درِ پاک پر بلا لے مری جاں مدینے والے اسی خاک میں سما لے مری جاں مدینے والے مرے سر کا تاج ھے یہ ترے در کی یہ گدائی مجھے قدموں میں بٹھا لے مری جاں مدینے والے یہ بہشت کا جو ٹکڑا ترے گھر کے سامنے ھے مرا گھر یہیں بسا لے مری جاں […]

نشانِ پائے مصطفےٰ کا گھر یہ دل

میرے حضور کی ہے رہگزر یہ دل ہواؤں کی طرح تلاش میں رہے جدھر ہے خوشبوئے رسول، اُدھر یہ دل میں اِس کو نفرتوں میں ضائع کیوں کروں ملا محبتوں کے نام پر یہ دل حصارِ کائنات میں نہ آ سکے نبی کو چاہتا ہے کس قدر یہ دل گمان بھی یقین و اعتبار بھی […]

محشر میں قُربِ داورِ محشر ملا مجھے

ایسا پیمبروں کا پیمبر ملا مجھے اللہ کو سُنانے لگا نعتِ مصطفےٰ جب سایہء رسول کا منبر ملا مجھے کِھلتی، مہکتی، بھیگتی راتوں کے موڑ پر وہ حجرہء درود میں اکثر ملا مجھے میں وادیء حرم تک اُسے ڈھونڈنے گیا آواز دی تو اپنے ہی اندر ملا مجھے قدموں میں مصطفےٰ کے رہا، جتنے دن […]