محمدِ مصطفیٰ کو دیکھو

محمدِ مصطفیٰ کو دیکھو وہ اپنے کردار کی زبانی بتائے قرآن کے معانی اس آئینے میں خدا کو دیکھو محمدِ مصطفیٰ کو دیکھو سماعتوں پر یقین کرنا دھوئیں کے اندر ہے رنگ بھرنا ابد کی آنکھیں بھی جس کو دیکھیں وہ کُہسارِ ازل کا جھرنا جبینِ خیرالبشر سے پُھوٹے یقینِ اہلِ نظر سے پُھوٹے فنا […]

مزا جب ہے کہ اپنی یوں بسر ہو

حرم میں شام، طیبہ میں سحر ہو عبادت ہو تو ایسی معتبر ہو کہ میرا سر نبی کا سنگِ در ہو کوئی تعریف اُس کی کیا کرے گا خدا کا جو کہ منظورِ نظر ہو اِدھر کعبہ اُدھر کعبے کا کعبہ بتا واعظ مرا سجدہ کدھر ہو قمر یوں تو نبی سارے قمر ہیں مگر […]

موڑ لو دل کو مدینے کی طرف

اب چلو یارو مدینے کی طرف شوق بے پایاں سے جو لرزاں‌ہوں لے چلو مجھ کو مدینے کی طرف حج بیت اللہ سے فارغ‌ہوئے آؤ اب دوڑو مدینے کی طرف ہر طرف سے خود ہی دل پھر جائے گا دیکھنا لوگو مدینے کی طرف صدق دل سے طواف کعبہ کر لیا اور اب آؤ مدینے […]

مُفلسِ زندگی اب نہ سمجھے کوئی

مجھ کو عشقِ نبی اِس قدر مل گیا جگمگائے نہ کیوں میرا عکسِ درُوں ایک پتھر کو آئینہ گر مل گیا جس کی رحمت سے تقدیرِ انساں کُھلے اُس کی جانب ہی دروازہء جاں کُھلے جانے عمرِ رواں لے کے جاتی کہاں خیر سے مُجھ کو خیر البشر مل گیا محورِ دو جہاں ذات سرکار […]

کس نے ذروں کو اٹھایا اور صحرا کر دیا

کس نے قطروں کو ملایا اور دریا کر دیا زندہ ہوجاتے ہیں جو مرتے ہیں اس کے نام پر اللہ اللہ موت کو کس نے مسیحا کردیا شوکت مغرور کا کس شخص نے توڑا طلسم منہدم کس نے الہٰی قصر کسریٰ کردیا کس کی حکمت نے یتیموں کو کیا در یتیم اور غلاموں کو زمانے […]

کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے ، وہی خدا ہے

دکھائی بھی جو نہ دے ، نظر بھی جو آرہا ہے وہی خدا ہے تلاش اُس کو نہ کر بتوں میں ، وہ ہے بدلتی ہوئی رُتوں میں جو دن کو رات اور رات کو دن بنا رہا ہے ، وہی خدا ہے وہی ہے مشرق وہی ہے مغرب ، سفر کریں سب اُسی کی […]

کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیرا

اس کی دولت ہے فقط نقشِ کف پا تیرا لوگ کہتے ہیں کہ سایہ تیرے پیکر کا نہ تھا میں تو کہتا ہوں جہاں بھر پہ ہے سایہ تیرا ایک بار اور بھی طیبہ سے فلسطین میں آ راستہ دیکھتی ہے مسجد اقصیٰ تیرا اب بھی ظلمات فروشوں کو گلہ ھےتجھ سے رات باقی تھی […]

ہجوم رنگ ہے میری ملول آنکھوں میں

بسا ہےجب سے ریاضِ رسول آنکھوں میں تصورات کے صحرا میں وہ حرم ابھرا کھلے گلاب میری دھول دھول آنکھوں میں فضائے فکر و نظر دُھل کے ہوگئی اُجلی ہوا وہ رحمتِ حق کا نزول آنکھوں میں کہیں جو حد سے بڑھا میرا حبسِ محرومی امڈ پڑا وہیں ابرِ قبول آنکھوں میں غم حیات ، […]

ہر طرف کائنات میں تم ہو

صرف بزمِ حیات میں تم ہو کچھ نہ تھا کائنات میں تم تھے کچھ نہیں کائنات میں تم ہو ہر عدم ہر وجود تم سے ہے یعنی ہر نفی ہر ثبات میں تم ہو اور کچھ بھی نظر نہیں آتا میں ہوں یا کائنات میں تم ہو حق و باطل نہیں ہیں ایک مگر کعبہ […]