تج کے بے روح مشاغل اے دل
چھیڑ حضرت کے شمائل اے دل مگر اتنا تجھے احساس رہے سخت مشکل ہے یہ منزل اے دل نارسا فکرِ سخنور ہے یہاں وہ تو ہیں خلق کا حاصل اے دل بے شمار ان کی عنایات اے جاں بے کراں ان کے فضائل اے دل نہ کوئی ان کا محاسن میں شریک نہ کوئی ان […]