کس کا نظام راہ نما ہے افق افق
جس کا دوام گونج رہا ہے افق افق شانِ جلال کس کی عیاں ہے جبل جبل رنگِ جمال کس کا جما ہے افق افق مکتوم کس کی موجِ کرم ہے صدف صدف مرقوم کس کا حرفِ وفا ہے افق افق کس کی طلب میں اہل ِ محبت ہیں داغ داغ کس کی ادا سے حشر […]
معلیٰ
جس کا دوام گونج رہا ہے افق افق شانِ جلال کس کی عیاں ہے جبل جبل رنگِ جمال کس کا جما ہے افق افق مکتوم کس کی موجِ کرم ہے صدف صدف مرقوم کس کا حرفِ وفا ہے افق افق کس کی طلب میں اہل ِ محبت ہیں داغ داغ کس کی ادا سے حشر […]
خاکی تو وہ آدم جد اعلیٰ ہے ہمارا اللہ ہمیں خاک کرے اپنی طلب میں یہ خاک تو سرکار سے تمغا ہے ہمارا جس خاک پہ رکھتے تھے قدم سید عالم اس خاک پہ قرباں دل شیدا ہے ہمارا خم ہو گئی پشتِ فلک اس طعنِ زمیں سے سن ہم پہ مدینہ ہے وہ رتبہ […]
محروم رہ نہ جائے کل یہ غلام تیرا جب تک ہے دل بغل میں ہر دم ہو یاد تیری جب تک زباں ہے منہ میں جاری ہو نام تیرا ایمان کی کہیں گے ایمان ہے ہمارا احمد صلی اللہ علیہ وسلم رسول تیرا مصحف کلام تیرا ہے تو ہی دینے والا پستی سے دے بلندی […]
تو بادشاہِ دیں ہے تو سلطانِ بحر و بر ادراک و آگہی کی ضمانت ترا کرم ایقان و اعتقاد کا حاصل تری نظر تیرے حروف نطقِ الٰہی کا معجزہ تیری حدیث سچ سے زیادہ ہے معتبر قرآں تری کتاب، شریعت ترا لباس تیری زرہ نماز ہے، روزہ تری سپر یہ کہکشاں ہے تیرے محلے کا […]
اے کارسازِ دہر و خدا وندِ بحر و بر ادراک و آگہی کے لیئے منزل مراد بہر مسافرانِ جنوں ، حاصلِ سفر یہ برگ و بار و شاخ و شجر ، تیری آیتیں تیری نشانیاں ہیں یہ گلزار ودشت و در یہ چاندنی ہے تیری تبسم کا آئینہ پر تَو تیرے جلال کا بے سایہ […]
خُوب جب دیکھ لیا تجھ کو تو دنیا دیکھی تو نے قبلِ دوجہاں شانِ تجلّی دیکھی عرش سجتا ہوا ، بنتی ہوئی دنیا دیکھی ترے سجدے سے جُھکی سارے رسُولوں کی جبیں سب نے اللہ کو مانا تِری دیکھا دیکھی میزباں خالقِ کونین بنا خود تیرا تیری توقیر سرِ عرشِ معلّےٰ دیکھی آپ چپ ہو […]
سامنے رَوضے کی جالی تھی مگر چُومی نہیں میری محرُومی سے بڑھ کر کوئی محرُومی نہیں
ہمیں بھی دیکھیئے آقا ، خطا کاروں میں ہم بھی ہیں ہمارے سامنے مسند نشینوں کی حقیقت کیا غلامان نبی کے کفش برداروں میں ہم بھی ہیں کبھی دنیا کے ہر بازار کو ہم نے خریدا تھا بکاؤ مال اب دنیا کے بازاروں میں ہم بھی ہیں کرم اے رحمت کونین ان کو پھول بنوا […]
مکرم تر از آدم و نسل آدم سلام علیک اے ز آبائے علوی بصورت مؤخر بمعنی ٰ مقدم سلام علیک اے ز اسمائے حسنہ جمال تو آئینہ اسم اعظم ز سعی تو شد فتح ابواب معلق ز نطق تو شد کشف اسرار مبہم توئی یا رسول اللہ آں بحر رحمت کہ باشد محیط از عطائے […]
خیالِ حضرت جب آ گیا ہے تو گرتے گرتے سنبھل گیا ہوں کبھی میں صبحِ ازل گیا ہوں کبھی میں شامِ ابد گیا ہوں تلاشِ جاناں میں کتنی منزل خدا ہی جانے نکل گیا ہوں حرم کی تپتی ہوئی زمیں پر جگر بچھانے کی آرزو تھی بہارِ خلدِبریں ملی تو بچا کے دامن نکل گیا […]